جوڑے ہوئے بال اور چشمہ، اپوزیشن رہنما وینزویلا سے فرار ہو کر نوبل انعام لینے کے لیے پہنچیں
ماریا کورینا ماچادو کے فرار کی دل چسپ تفصیلات
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے 2025 میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کے کراکس کے مضافات سے اوسلو تک فرار کی دل چسپ تفصیلات شائع کی ہیں۔
اخبار کے مطابق ماچادو نے اپنے سر پر مصنوعی بال لگائے اور گہرے رنگ کا چشمہ پہن کر 10 فوجی چیک پوسٹوں کو عبور کر گئیں۔ پھر ایک چھوٹے لکڑی کے جہاز کے ذریعے بحر کیریبین میں سفر شروع کیا۔ یہ فرار تقریباً دو ماہ پہلے امریکی فوج کے تعاون سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔
ماچادو نے جمعرات کو اوسلو میں دنیا کو حیران کر دیا، کیونکہ وہ گذشتہ روز نوبل انعام کی تقریب میں نہیں پہنچیں، جب کہ وینزویلا میں ان کے خلاف "سازش، نفرت انگیزی اور دہشت گردی" کے الزامات تھے۔ اوسلو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی گرفتاری کے خطرے کے باوجود وطن واپس جائیں گی اور "آمرانہ حکومت" کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا "میں یہ انعام وینزویلا کے عوام کی نمائندگی میں حاصل کر رہی ہوں اور مناسب وقت پر اسے واپس لے جاؤں گی۔"
ماچادو نے فرار سے پہلے ہیئر اسٹائل اور چشمے بدلے، دوپہر کے وقت خفیہ مقام سے نکل کر ساحلی ماہی گیروں کے گاؤں کی طرف روانہ ہوئیں، جہاں چھوٹا جہاز انتظار کر رہا تھا۔ دس گھنٹے کی پرتشدد کشیدگی کے بعد وہ نیم شب تک ساحل پہنچیں اور چند گھنٹوں کے آرام کے بعد بحری سفر شروع کیا، جس میں مضبوط لہریں اور تیز ہوا تھی جبکہ امریکی افواج مشتبہ منشیات بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
اخبار نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ اس فرار سے با خبر تھی اور دو ایف-18 لڑاکا طیارے وینزویلا کے خلیج میں تقریباً چالیس منٹ پرواز کرتے ہوئے کوراساو جانے والے راستے کے قریب سے گزرے۔ یہ امریکی فوج کی ستمبر سے جاری فضائی کارروائی میں وینزویلا کی حدود کے نزدیک سب سے قریب پرواز تھی۔