اقوام متحدہ کے بین الثقافتی اتحاد کے عالمی فورم کا سعودی عرب کی میزبانی میں آغاز

فورم میں سعودی وزیر خارجہ کی شرکت، مملکت کی بین المذاہب ہم آہنگی کی کاوشوں پر اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اقوام متحدہ کے تحاد برائے تہذیبوں کے فورم کے گیارہویں اجلاس کی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی موجود تھے۔ فورم میں عالمی سطح کے اعلیٰ حکام ،اقوام متحدہ کے اداروں کے نمائندے، مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے فیصلہ ساز اور ممتاز مفکرین شریک ہیں۔

فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس اجلاس کی میزبانی مملکت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ان کوششوں کے لیے مسلسل حمایت کا مظہر ہے جن کا مقصد رواداری، مکالمے اور مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان بقائے باہمی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب سنہ 2005ء میں اتحاد برائے ثقافات کے قیام کے آغاز ہی سے اس کی حمایت کرنے والے اولین ممالک میں شامل رہا ہے اور سیاسی اور مالی معاونت فراہم کی جس سے اس کے اہداف کے حصول میں مدد ملی۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ اتحاد کی حمایت مملکت کے اس پختہ یقین سے جنم لیتی ہے کہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان مکالمہ اور رابطہ ہی امن کے قیام معاشروں کے درمیان اعتماد کی تعمیر اور تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل کا بہترین راستہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہی اقدار عالمی امور کے حوالے سے سعودی پالیسی کی بنیادی اساس ہیں۔

اسی تناظر میں انہوں نے ان اقدامات کا حوالہ دیا جو مملکت نے تہذیبی مکالمے کے فروغ کے لیے شروع کیے۔ ان میں سنہ 2012ء میں مملکت اسپین جمہوریہ آسٹریا اور ویٹیکن کے ساتھ مل کر مرکز شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز عالمی برائے مکالمہ بین المذاہب و الثقافات کا قیام شامل ہے۔ سعودی عرب نے عالمی اداروں کی ان کوششوں کی بھی حمایت کی جو مذہب نسل یا ثقافتی شناخت کی بنیاد پر نفرت انتہاپسندی اور اخراج کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویژن 2030 محض ایک اقتصادی منصوبہ نہیں جس کا مقصد آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور تیل پر انحصار کم کرنا ہے بلکہ یہ ایک جامع قومی اور ثقافتی منصوبہ ہے جو اعتدال اور کشادگی کی اقدار کو مضبوط بنانے اور انتہاپسندی اور نفرت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں متعدد قومی اداروں کے قیام کا ذکر کیا جن میں مرکز شاہ عبدالعزیز برائے تہذیبی مکالمہ سلام منصوبہ برائے تہذیبی رابطہ مرکز اعتدال برائے انتہاپسند فکر کا مقابلہ اور مرکز الحمایہ الفکریہ شامل ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران دنیا کو درپیش چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی جن میں انتہاپسند رجحانات کا بڑھتا ہوا اثر نفرت انگیز بیانیے اسلاموفوبیا اور امتیازی سلوک کا پھیلاؤ اور ایسے تنازعات اور تشدد شامل ہیں جنہیں مذہبی یا نسلی جواز کے ساتھ پیش کیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منفی رجحانات امن اور مکالمے کے حامی حلقوں کے لیے مایوسی کا سبب نہیں بننے چاہئیں بلکہ بین الاقوامی اور قومی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لینے ان کے اثرات جانچنے اور ان کی افادیت بڑھانے کا محرک ہونے چاہئیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ فورم کا گیارہواں اجلاس ماضی کی کوششوں کا جائزہ لینے اور تنوع اور اختلاف کے بہتر انتظام کے طریقوں پر آرا اور خیالات کے تبادلے کے لیے منعقد کیا جارہا ہے تاکہ مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان رابطے اور مکالمے کے پل مضبوط کیے جاسکیں۔

اسی سلسلے میں وزیر خارجہ نے نوجوانوں کے مرکزی کردار پر زور دیا اور انہیں مستقبل کے قائدین اور امن کے سفیر قرار دیا۔ انہوں نے فورم میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اجتماع ایک نمایاں نوجوان پلیٹ فارم ہے خصوصاً اس لیے کہ اس کے ساتھ نوجوانوں کا فورم بھی منعقد ہورہا ہے اور سلام منصوبہ برائے تہذیبی رابطہ کے تحت نوجوان قیادت کی تربیت کے آٹھویں بیچ کی گریجویشن تقریب کی میزبانی بھی کی جارہی ہے۔

اس سال فورم کا انعقاد اس عنوان کے تحت کیا جارہا ہے: انسانیت کے لیے مکالمے کی دو دہائیاں، ایک کثیر قطبی دنیا میں باہمی احترام اور تفہیم کے نئے دور کا آغاز۔

فورم میں متعدد سرگرمیاں شامل ہیں جن میں اتحاد برائے تہذیبوں کے لیے اقوام متحدہ کے دوستوں کے گروپ کا اعلیٰ سطحی اجلاس نمایاں ہے جس کے ارکان کی تعداد اس وقت 161 ہے۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کا فورم اور خصوصی نشستیں بھی منعقد کی جارہی ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے پھیلنے والی گمراہ کن معلومات امن کی صف اول میں خواتین کا کردار ہجرت اور انسانی وقار اور نفرت انگیز بیانیے کا مقابلہ جیسے اہم عالمی موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size