افغانستان میں بھوک سے متعلق بحران سنگین تر ہو گیا : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے خوراک سے متعلق پروگرام 'ڈبلیو ایف پی' پہلی بار افغانستان میں خوراک و امدادی سامان پہنچانے سے قاصر ہو گیا ہے ۔ یہ صورت حال کئی دہائیوں کے بعد سامنے آئی ہے کہ اقوام متحدہ کا یہ ادارہ ان مشکلات کا شکار ہے جس کی وجہ سے لاکھوں افغانی غذائی قلت کی وجہ سے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے منگل کے روز اس بارے میں بتایا ہے کہ غذائی قلت کی وجہ سے زیادہ اثرات بچوں کو ہونے کا خطرہ ہے۔ خاص طور پر موسم سرما میں غذائی قلت کے اثرات جان لیوا ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے جنگ ذدہ افغانستان 2021 سے طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ اس دوران افغانستان کو کئی طرح کی قدرتی آفات کا بھی سامنا رہا ہے جن میں کئی بار زلزلے بھی آئے ہیں۔ جبکہ بین الاقوامی سطح پر ملنے والی امداد میں کمی ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ یہ ادارہ افغانستان کے لیے موسم سرما میں خوراک کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کوئی پروگرام شروع نہیں کر پا رہا۔ جبکہ خوراک کا معاملہ افغانستان میں قومی سطح پر ہنگامی صورتحال سے گزر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسے فوری طور پر 460 ملین ڈالر کی خطیر رقم کی ضرورت ہے۔ تاکہ 60 لاکھ کی تعداد میں افغانیوں کو غذائی قلت سے بچانے کے لیے خوراک فراہم کر سکے۔

'ڈیبلیو ایف پی' کے مطابق افغانی بچے پچھلی کئی دہائیوں سے غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں مگر اس وقت صورت حال سنگین تر ہے اور اس کی وجہ بین الاقوامی سطح سے فنڈنگ میں کمی ہوجانا ہے۔

'ڈیبلیو ایف پی' کے مطابق افغانستان میں 17 ملین لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے۔ جن میں 3 ملین کا اضافہ پچھلے سال ہوا ہے۔ کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں افغانی دو ہمسایہ ملکوں ایران اور پاکستان سے ڈی پورٹ کر کے واپس بھیجے گئے ہیں۔

پاکستان میں یہ افغان مہاجرین پچھلی کئی دہائیوں سے مقیم تھے۔ تاہم اب پاکستان نے طالبان کی حکومت واپس آنے کے چار سال بعد مزید اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیا ہے اور مرحلہ وار بنیادوں پر ان مہاجرین کو افغانستان بھیج دیا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر فوڈ سیکیورٹی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران جنیوا میں بتایا ہے کہ ان کے پاس صرف 12 فیصد فنڈز موجود ہیں۔ اس لیے فنڈز کا نہ ہونا بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

افغان بچوں کی تعداد کے بارے میں انہوں نے کہا 37 لاکھ افغان بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اس لیے بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں