تینتالیس سالہ احمد الاحمد کی ملکیتی تمباکو کی دکان کے بند شٹر کے سامنے منگل کو ایک گلدستہ رکھ دیا گیا۔ انہوں نے سڈنی کے بونڈائی بیچ پر وسیع پیمانے پر فائرنگ کے دوران ایک حملہ آور کی بندوق چھین کر اسے غیر مسلح کر دیا تھا۔ انہیں مقامی لوگوں نے "بونڈائی ہیرو" کے طور پر سراہا ہے۔
سوشل میڈیا پر احمد کی شناخت قریب کھڑے شخص کے طور پر ہوئی جو کھڑی ہوئی گاڑیوں کے عقب میں چھپ گئے اور پیچھے سے بندوق بردار پر حملہ کر کے اس کی رائفل چھین لی اور اسے زمین پر گرا دیا۔ حکام نے کہا ہے کہ ان کے اِس عمل سے کئی جانیں بچ گئیں۔
"مجھے لگتا ہے کہ وہ ہم سب کے لیے ایک رول ماڈل ہے اور یہ واقعی آسٹریلوی جذبے کو خود میں سموئے ہوئے ہے اور مجھے اس علاقے میں رہنے پر ناقابلِ یقین حد تک فخر ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہر کسی کو ہو گا، اس بات نے مجھے بہت زیادہ متأثر کیا ہے،" سدرلینڈ کے مضافاتی علاقے میں احمد کے محلے کے ایک مقامی رہائشی ایڈم پوگورزیلسکی نے کہا۔
دو بچوں کے والد الاحمد گولی کے زخموں کے باعث سڈنی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ وزیرِ اعظم انتھونی البانی نے منگل کو ان کی عیادت کی اور میڈیا کو بتایا کہ احمد کی مزید سرجری ہو گی۔
احمد کو تمام دنیا میں ایک ہیرو کے طور پر سراہا گیا ہے بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے کہا کہ احمد "بہت بہادر شخص" تھا جس نے بہت سی جانیں بچائیں۔
"جب میں نے یہ دیکھا تو مجھے حقیقت میں فخر ہوا، میں نے سوچا، ارے واہ! کیا یہ احمد ہے کیونکہ میں انہیں جانتا ہوں، پھر میں نے دو بار دیکھا اور معلوم ہوا کہ یہ وہی ہیں...،" قریبی کیمسٹ کے ایک 20 سالہ کارکن نے کہا جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔