انگلینڈ : ڈاکٹروں نے کم تنخواہوں اور خراب حالات کار کے خلاف 5 روزہ ہڑتال شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے پانچ روزہ ہڑتال کا آغاز بدھ کے روز سے کیا ہے۔ یہ ہڑتال ڈاکٹروں کو ملنے والی کم تنخواہوں اور حالات کار کے اچھا نہ ہونے کے خلاف کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹروں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کے رویے کی وجہ سے مسلسل کئی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتالوں میں رہائشی جونیئر ڈاکٹروں کی طرف سے واک آؤٹ کے نام سے احتجاج کا یہ سلسلہ اب تک کی احتجاجی سیریز کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

اس سے پہلے بھی اسی سال کئی بار ڈاکٹر ہڑتال کر چکے ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں کئی دہائیوں سے کوئی اضافہ نہیں ہے۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو ملنے والی موجودہ تنخواہوں میں وہ مزید کوئی اضافہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

وزیر صحت نے کہا کہ اس طرح ہڑتالوں کا اعلان کرنا غیر ذمہ دارانہ ہے اور خود کو خطرات سے دوچار کرنے والی بات ہے۔

صحت سے متعلق سہولتیں پہلے ہی بہت کم ہیں۔ جبکہ اس ہڑتال سے ہیلتھ کیئر سروسز پر مزید دباؤ آئے گا۔

انگلینڈ کے صحت سے متعلق ادارے 'نیشنل ہیلتھ سروس نے پچھلے ہفتے انتباہ کیا تھا کہ انگلینڈ کے ہسپتال بدترین صورتحال سے گزر رہے ہیں۔
خاص طور پر آج کل خاص قسم کا ایک فلو بھی وائرل ہوا وا ہے۔

انگلینڈ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے میڈیکل ڈائریکٹر نے کہا کہ طبی عملہ اسی طرح اپنی ذمہ داریوں پر آئے گا جس طرح کے ہمیشہ آتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بہت سارے مریضوں کو ہڑتالوں کی وجہ سے تکلیف سے گزرنا پڑا ہے۔

برطانوی میڈیکل ایسوسی ایشن 'بی ایم اے' کے جیک فلیچر نے کہا ہڑتال کی وجہ دو ایشوز خاص طور پر بنے ہیں۔ ایک روزگار کا بحران کہ کوالیفائڈ ڈاکٹر بھی روزگار کے وہ مواقع اور مناسب تنخواہ پانے سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا ہمیں اپنے ملک میں ڈاکٹرز کمیونٹی کی قدر و منزلت میں اضافہ کرنا ہوگا۔

مزید کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ بہت سارے ڈاکٹر اس پیشے کو چھوڑنے پر مجبور ہو ریے ہیں جیسا کہ پچھلے سال حالیہ دہائی کے مقابلے میں زیادہ ڈاکٹروں نے اپنے اس مقدس پیشے کو الوداع کہہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا اصل معاملہ ڈاکٹروں کی تنخواہوں کے حوالے سے ہے جو بہت کم ہے اور 'بی ایم اے' کی توقعات اور حکومت کی اعلان کردہ افورڈیبلیٹیی میں بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ کیونکہ اس سال میں بھی یہ تنخواہیں 2008 کی سطح پر موجود ہیں۔

دوسری جانب عوام کی طرف سے ڈاکٹروں کی اس ہڑتال کی حمایت نسبتا کم ہے۔ تقریبا 58 فیصد لوگوں نے 12 دسمبر کو اس ہڑتال کی مخالفت کی۔

جبکہ نیشنل ہیلتھ سروس انگلینڈ کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے بہت تھوڑے ڈاکٹر ڈیوٹی پر آئے اور یہ بالعموم ہونے والی ہڑتالوں سے بھی کم تعداد تھی۔ یہ ہڑتال ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب 50 فیصد سے زیادہ لوگ ماہ دسمبر کے آغاز سے فلو کے وائرل کا شکار ہیں اور اوسطاً ہر روز 2660 نئے مریض ہسپتالوں سے رجوع کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں