تین غذائی اجزاء جو خاموشی سے کینسر کے خطرے کوبڑھانے کا سبب بنتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ غذائی انتخاب لمبے عرصے میں صحت پر ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اگرچہ یہ اثر کبھی کبھار واضح نہیں ہوتا۔ عام مغربی غذائی طرزِ زندگی جو زیادہ تر پروسیسڈ غذائیں، سرخ گوشت، ریفائنڈ اناج اور میٹھے مشروبات پر مشتمل ہوتا ہے ۔ کچھ اقسام کے کینسر کے خطرے میں اضافہ سے منسلک ہے۔

اس کے برعکس وہ غذائی طرز جو پھل، سبزیاں اور مکمل اناج پر مبنی ہو، جو فائبر اور ایسے غذائی اجزاء سے بھرپور ہوں، جو کینسر کے خطرے کو کم کرنے سے تعلق رکھتے ہیں،ان میں عموماً خطرہ کم ہوتا ہے۔

Eating Well ویب سائٹ کے مطابق غذائیت کی ماہر ڈاکٹر کیری ہیمرک کا کہنا ہے کہ:مغربی غذائی طرز کینسر کے خطرے کو 10فیصدسے 30 فیصد تک بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر کولون اور ریکٹم، چھاتی، پروسٹیٹ اور لبلبے کے کینسر میں۔اگرچہ کینسر کا خطرہ کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جو صرف خوراک کی نوعیت تک محدود نہیں ہیں، تاہم چھوٹے غذائی تبدیلیاں کرنے سے اپنی پسندیدہ غذائیں کھانے کے دوران بھی اس خطرے کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے، جن میں چند اہم نکات شامل ہیں:

پروسیسڈ گوشت

بین الاقوامی ادارہ برائے کینسر ریسرچ (IARC) پروسیسڈ گوشت جیسے کہ ساسیجز اور ہاٹ ڈاگ کو پہلی درجے کے کینسر پیدا کرنے والے مادوں میں شامل کرتا ہے۔

غذائیت میں ڈاکٹریٹ رکھنے والی اور کینسر غذائیت کی ماہر کرسٹل زونیگا وضاحت کرتی ہیں کہ:نیٹریٹس چاہے وہ صنعتی ہوں یا قدرتی جیسے کرفس پاؤڈر جو گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے شامل کیے جاتے ہیں، آنتوں کے اندر ایسے مرکبات بنا سکتے ہیں ،جو خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر کولون میں۔

ڈاکٹر ہیمرک کا مزید کہنا ہے کہ:روزانہ صرف دو سلائس بیکن یا ایک ہاٹ ڈاگ کھانے سے کولون اور ریکٹم کینسر کا خطرہ تقریباً 20فیصد بڑھ سکتا ہے، جو تشویشناک ہے۔صحت کے خطرات کو کم کرنے کے لیے پروسیسڈ گوشت کی جگہ کم خطرہ پروٹین کے ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں، جیسے کہ ٹرکی یا مرغی کا سینہ، جنگلی سالمن یا پائیدار طریقے سے پکڑی گئی ٹونا یا حتیٰ کہ سینڈوچز اور رولز میں چنے کا استعمال بھی۔

شکر والے مشروبات

کبھی کبھار سافٹ ڈرنکس کا استعمال متوازن غذائی نظام میں قابل قبول ہو سکتا ہے، لیکن مستقل اور زیادہ مقدار میں شکر والے مشروبات پینے سے خطرے کے عوامل بتدریج جمع ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ بذاتِ خود کینسر پیدا نہیں کرتے، لیکن زیادہ استعمال سے وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو بعض اقسام کے کینسر کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔

ڈاکٹر ہیمرک وضاحت کرتی ہیں کہ:شکر سے بھرپور مشروبات، جیسے سافٹ ڈرنکس، انرجی اور اسپورٹس ڈرنکس، اور بعض میٹھے کافی والے مشروبات، انسولین اور انسولین نما گروتھ فیکٹر (IGF-1) کی سطح کو بڑھا سکتے ہیں، جو خلیوں کی تیزی سے نمو اور تقسیم کو تحریک دیتا ہے اور سوزش اور اعضا کے اردگرد چربی جمع ہونے میں مددگار ہوتا ہے۔وہ مشورہ دیتی ہیں کہ ان مشروبات کی جگہ لیموں یا دیگر ترش پھلوں کے ذائقے والی سوڈا واٹر یا قدرتی 100فیصد فروٹ جوس کی کم مقدار استعمال کی جائے۔

کرسٹل زونیگا مزید وضاحت کرتی ہیں کہ:شکر براہِ راست کینسر پیدا نہیں کرتی، نہ ہی یہ خاص طور پر کینسر کے خلیوں کو غذا فراہم کرتی ہے۔
جدید تحقیق بشمول 2023 کی ایک سائنسی جائزہ رپورٹ نے بھی یہ ظاہر کیا ہے کہ عام مصنوعی مٹھاسیں کینسر کے خطرے کو نہیں بڑھاتیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے مطابق اسپارٹیم منظور شدہ حدود میں محفوظ ہے اور اس کا حفاظتی مارجن وسیع ہے۔

لال گوشت
لال گوشت جیسے گائے اور بھیڑ کا گوشت چاہے وہ نامیاتی ہو یا چرس کھلانے پر پروان چڑھا ہوا ، کولون اور ریکٹم کے کینسر کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔
بین الاقوامی ایجنسی برائے تحقیقِ کینسر (IARC) نے اسے کینسر پیدا کرنے کے ممکنہ مواد کی دوسری درجہ بندی میں رکھا ہے۔

کرسٹل زونیگا کے مطابق:گوشت کو زیادہ درجہ حرارت پر پکانے سے سرطان پیدا کرنے والے مرکبات جیسے ہٹروسائکلک امائنس (HAA) اور پولی سائکلک ایرومیٹک ہائیڈروکاربنس (PAH) بن سکتے ہیں، جو DNA سے جڑ کر وقت کے ساتھ خلیاتی جین میں تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
اس کے پیش نظر ڈاکٹر ہیمرک مشورہ دیتی ہیں کہ لال گوشت کا استعمال ہفتے میں دو سے تین مرتبہ سے زیادہ نہ ہو اور پروٹین کے ذرائع میں تنوع رکھا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں