مصری اداکارہ نوین مندور کی ان کے اپارٹمنٹ میں لگنے والی آگ کے دھوئیں سے دم گھٹنے کے باعث موت ہوگئی۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد آگ کے دھوئیں کے خطرات پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ کیا دھواں آگ کی لپٹوں کے بغیر بھی موت کا سبب بن سکتا ہے؟ اور ایسی صورتحال میں بچاؤ کے طریقے کیا ہیں؟
سینے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر مصطفیٰ ابوبکر نے ’’ العربیہ ‘‘ کو بتایا کہ آگ کا دھواں موت کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ یہ دھواں اس وقت بھی موت کا سبب بن جاتا ہے جب آگ کے شعلے انسان تک نہ پہنچے ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ زہریلی گیسوں خاص طور پر کاربن مونو آکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا سانس کے ذریعے اندر جانا ہے جو پھیپھڑوں اور دماغ تک آکسیجن کی سپلائی میں شدید کمی کر دیتی ہیں۔ اس سے انسان پہلے بے ہوش ہوتا ہے اور پھر تھوڑی ہی دیر میں اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
سانس کے نظام کی تباہی
ڈاکٹر مصطفیٰ ابوبکر نے مزید بتایا کہ دھوئیں کے براہ راست اثر سے جسم انتہائی زہریلے مواد کا سامنا کرتا ہے۔ یہ دھواں سانس کے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے اور فوری دم گھٹنے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے حفاظتی تدابیر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سونے سے پہلے گیس کے چولہے اور بجلی کے آلات بند کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے سگریٹ کے ٹکڑے احتیاط سے تلف کرنے کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی۔
حفاظتی تدابیر
اگر کوئی شخص آگ میں پھنس جائے تو اسے پرسکون رہ کر سانس کی ترتیب برقرار رکھنی چاہیے، کھڑکیاں یا دروازے کھول دینے چاہئیں اور دھوئیں کے ذرائع سے جتنا ممکن ہو دور رہنا چاہیے۔ ڈاکٹر نے متنبہ کیا کہ اگر کوئی شخص دھوئیں سے متاثر ہو کر بچ جائے، تب بھی اسے فوری ہسپتال لے جانا چاہیے کیونکہ اس کی پیچیدگیاں بعد میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ایمرجنسی اور آئی سی یو کے ماہر ڈاکٹر حاتم عبدالحق نے بتایا کہ زہریلا دھواں فرنیچر اور پلاسٹک کے جلنے سے پیدا ہوتا ہے جو سانس کی نالیوں کی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے اور آکسیجن کا راستہ بند کر دیتا ہے۔ کاربن مونو آکسائیڈ خون کے سرخ خلیات کے ساتھ آکسیجن سے زیادہ مضبوطی سے جڑ جاتی ہے جس سے دل اور دماغ کو آکسیجن نہیں ملتی۔ اس سے دل کی دھڑکن میں خرابی پیدا ہوتی ہے، جھٹکے لگتے ہیں اور اچانک بے ہوشی ہو سکتی ہے۔
طبی مداخلت کی اہمیت
آگ کی صورت میں زمین کے قریب رہ کر یعنی نیچے جھک کر نکلنا بہتر ہوتا ہے تاکہ زہریلی گیسوں سے بچا جا سکے۔ متاثرہ شخص کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا چاہیے تاکہ اس کے آکسیجن لیول کا معائنہ کیا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر آئی سی یو میں علاج فراہم کیا جائے۔ واضح رہے فلم ’’ لی بالی بالک ‘‘ کی ہیروئن نوین مندور بدھ کی صبح اسکندریہ میں اپنے گھر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 53 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔