آسٹریلین ساحل پر حملہ کرنے والوں نے اس حملے کے لیے باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

آسٹریلیا کے ساحل پر فائرنگ کر کے 15 افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بارے میں پولیس نے کہا حملہ کرنے والے دونوں افراد نے اس حملے کے لیے تربیت بھی حاصل کی تھی۔

پولیس نے اس امر کا اظہار عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں پیر کے روز کیا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھنی البانیز نے زور دے کر کہا کہ ملک میں انتہا پسندی کے خلاف قوانین کو سخت کیا جائے گا۔

بھارتی شہری ساجد اکرم اور اس کے بیٹے نوید اکرم پر الزام ہے کہ انہوں نے یہودی جنگ کی فتح کی خوشی میں منائے جانے والے قدیمی تہوار ہنوکا کی تقریب پر حملہ کرکے 15 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ آسٹریلیا میں یہ واقعہ کئی برسوں بعد ہوا جس میں فائرنگ سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

واقعے کی تصاویر سے صاف لگتا ہے کہ دونوں فائرنگ کرنے والے باپ بیٹے نے بہت مہارت کے ساتھ فائرنگ کی اور آنا فانا 15 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اس حملے کے دوران ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔ ویڈیو میں صہیونیوں کے خلاف ان کے خیالات کا بھی اظہار کیا گیا۔ جبکہ یہ دونوں افراد داعش کے جھنڈے کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔

آسٹریلین حکومت کی طرف سے اتوار کی شام چھ بج کر سینتالیس منٹ پر واقعے میں مارے جانے والوں کے ساتھ ایک منٹ کی خاموشی کے ذریعے اظہار یکجہتی کی گئی۔ گھروں میں اور جائے وقوعہ پر موم بتیاں جلائی گئیں اور سرکاری عمارات پر آسٹریلوی پرچم کو سرنگوں رکھا گیا۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھنی البانیز پر سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ ان کی حکومت سیکیورٹی کے انتظامات میں کوتاہی کر رہی ہے۔

آسٹریلین وزیر اعظم نے کہا میں اس ذمہ داری کو محسوس کرتا ہوں۔ جب یہ واقعہ ہوا ہے تو مجھے بطور وزیر اعظم اس پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ یہودی کمیونٹی اور ہماری پوری قوم کو اس دکھ سے گزرنا پڑا ہے۔ حکومت پر یہودی آسٹریلوی کو تحفظ دینے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ یہودی کمیونیٹی کو آسٹریلیا میں اپنے عقیدے کے مطابق عبادات کرنے پر فخر ہونا چاہیے۔ انہیں اپنے بچوں کو یہ سکھانے اور آسٹریلین کمیونٹی کے ساتھ جوڑنے پر بھی فخر ہونا چاہیے۔

یاد رہے آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کے اہم ملکوں میں غزہ جنگ کے خلاف سخت ردعمل پایا جاتا اور اسرائیلی جنگ سے ناراض لوگ یہودیوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔

اس سے قبل آسٹریلیا کی یہودی کمیونٹی کے لوگ متاثرہ ساحل پر جمع ہوئے۔ انہوں نے وہاں عبادات کا اہتمام کیا اور ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائیں کیں۔

حملہ آور ساجد اکرم اور اس کا بیٹا 24 سالہ نوید اکرم اس موقع پر پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے۔ جبکہ ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا۔

ہتھیاروں اور دہشت گردانہ علامتوں کے خلاف کریک ڈاؤن

آسٹریلیا کی وفاقی حکومت نے ایسی قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ کسی دہشت گرد تنظیم کا پرچم اٹھا کر کوئی شہری نقل و حرکت نہیں کر سکے گا اور نہ ہی سرعام بندوق برداری کی جا سکے گی۔

اس سلسلے میں نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت نے پارلیمان میں ایک مسودہ قانون بھی پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ ایسے واقعات کے خلاف سخت اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔

نئے قانون کے مطابق ایک فرد کے پاس بندوقوں کی تعداد کو بھی محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے اس وقت نیو ساؤتھ ویلز میں 11 لاکھ بندوقوں کے لائسنس موجود ہیں۔ نئی قانون سازی میں یہ بھی کوشش کی جائے گی کہ کوئی بھی دہشت گردوں کے سمبلز کو لے کر سڑکوں پر نہ آسکے جیسا کہ داعش کے پرچم کو سڑک پر لے کر آنے کی کوشش کو روکا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں