غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، رہائشیوں کو 'نئی سرحد' کا خوف

بمباری سے موت کا خوف ہے لیکن فسلطینی اپنی زمین چھوڑنے کو تیار نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جب امِ احمد کے بچے خوف سے کانپتے ہوئے سوال پوچھتے ہیں کہ جنوبی غزہ کے خان یونس علاقے میں اسرائیل کی مسلسل بمباری سے بچنے کے لیے ان کا خاندان کہاں پناہ لے سکتا ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

دس اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی سے امن کا جو نازک سا احساس پیدا ہوا تھا، وہ حالیہ اسرائیلی حملوں نے ختم کر ڈالا ہے جو خان یونس شہر کے قریب ان کے چھوٹے سے تباہ شدہ گاؤں پر ہو رہے ہیں۔

رہائشیوں نے بتایا ہے کہ حملوں میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ نام نہاد زرد لکیر کے مشرق میں واقع محلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے تحت قائم کردہ حد بندی ہے۔

تباہ کن جنگ کو دو سال سے زیادہ عرصہ گذر جانے کے بعد بھی غزہ کے ہزاروں شہری ہنوز ان علاقوں میں خیموں یا تباہ شدہ گھروں میں مقیم ہیں جہاں اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے اور وہ چوکیاں چلاتی ہے۔

اب بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں سے بے دخلی کے خوف سے زرد لکیر کے مغرب میں جانے پر مجبور ہیں۔

چالیس سالہ امِ احمد نے کہا، "ہم خوف کی وجہ سے رات کو سوتے نہیں۔ مشرقی حصے میں بے لگام بمباری جاری ہے۔ میرے بچے ہر دھماکے پر کانپتے اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ 'ہم کہاں جا کر پناہ لے سکتے ہیں؟' اور میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔"

بنی سہیلہ میں ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود خاندان گھر کے کھنڈرات کے پاس خیمہ لگا کر مقیم ہے۔

امِ احمد نے کہا، "اپنے تباہ شدہ گھر کے قریب رہنا کسی نامعلوم کا سامنا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔"

خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی تک زرد لکیر عبور کرنا ان کے لیے کوئی عقلمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔

وہاں تا حدِ نگاہ عارضی کیمپ پھیلے ہوئے ہیں جن میں جنگ سے فرار ہو کر آنے والے دسیوں ہزار فلسطینی رہائش پذیر ہیں۔

جیسا کہ غزہ بدستور تباہ کن انسانی بحران میں پھنسا ہوا ہے تو امِ احمد نے کہا، "وہاں کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی خوراک اور پانی کافی ہے۔"

'ہم یہاں سے نہیں جائیں گے'

علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ میں 70,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

علاقے کے بیس لاکھ سے زیادہ باشندوں کی اکثریت متعدد بار بے گھر ہو چکی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے زرد لکیر کو اسرائیل سے متصل "نئی سرحد" قرار دیا۔

انہوں نے غزہ میں فوجی ارکانِ مخصوصہ سے کہا، "زرد لکیر ایک نئی سرحدی لکیر ہے -- جو ہماری کمیونٹیز کے لیے ہراول دفاع اور آپریشنل سرگرمیوں کی ایک لائن کے طور پر کام کرتی ہے۔"

فلسطینی حکام اس لائن کو مستقل نقلِ مکانی کی ایک حد سمجھتے ہیں۔

خان یونس کے میئر علاء البتۃ نے بمباری کو "جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے کہا، اس کا "مقصد رہائشیوں کو خوفزدہ کرنا، ان کے علاقوں سے نکالنا اور مغرب کی طرف نقلِ مکانی پر مجبور کرنا ہے۔"

خان یونس کے مشرق میں خُزاعہ سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ محمود براکہ نے علاقے میں توپ خانے کی مسلسل فائرنگ اور مکانات کی مسماری کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے کہا، "ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم بدستور جنگی علاقے میں رہ رہے ہیں۔ دھماکے ایسے ہوتے ہیں جیسے وہ ہمارے بالکل قریب ہوں۔ قبضے کا مقصد واضح ہے: ہمیں خوفزدہ کرنا اور باہر نکالنا تاکہ علاقہ خالی ہو جائے۔"

فی الوقت رہائشی خود کو بمباری اور نقلِ مکانی کے درمیان پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں اور اس غیر یقینی کا شکار ہیں کہ وہ کب تک یہ برداشت کر سکتے ہیں۔

خطرے کے باوجود 70 سالہ عبدالحمید نے خان یونس کے شمال میں واقع اپنا گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا جہاں وہ اپنے پانچ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔۔ یہ ہماری زمین ہے۔ نقلِ مکانی کوئی حل نہیں بلکہ ایک اور المیہ ہو گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں