کویت نے ایک بڑی بندرگاہ کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے چین کے ساتھ 4.1 بلین ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تیل سے مالا مال کویت عالمی تجارت میں اہم کردار کے ساتھ اپنی معیشت کو متنوع بنانا چاہتا ہے۔
عوامی فنڈز کی نگرانی کے لیے ذمہ دار حکومتی نگراں ادارے ریاستی آڈٹ بیورو نے پیر کو کہا، "مبارک الکبیر بندرگاہ کا منصوبہ مکمل کرنے کے لیے انجینئرنگ، خریداری اور تعمیراتی معاہدے پر 1.28 بلین کویتی دینار (4.164 بلین ڈالر) کے اخراجات ہوں گے۔"
سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ وزیرِ اعظم شیخ احمد العبداللہ الاحمد الصباح نے "بوبیان جزیرے پر مبارک الکبیر بندرگاہ کی تعمیر کے لیے انجینئرنگ-رسد-تعمیرات کے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔"
انہوں نے کہا، یہ کلیدی منصوبہ "علاقائی اور بین الاقوامی تجارت اور عالمی رسد میں کویت کا حصہ بہتر بنائے گا۔"
چینی قائم مقام چارج ڈی افیئرز لیو ژیانگ نے کہا، اس معاہدے سے "بیلٹ اینڈ روڈ" اقدام میں شرکت تشکیل پاتی ہے۔
کویت نے 2023 میں چین کے ساتھ مفاہمت کی سات یادداشتوں پر دستخط کیے تھے جن میں مبارک الکبیر بندرگاہ کے ساتھ ساتھ رہائش، پانی کو قابلِ استعمال بنانے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
چین اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت شرقِ اوسط پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں گذشتہ عشرے کے دوران تیار کردہ یہ ایک وسیع عالمی بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے۔