روزانہ 15 ہزار سیاح ... لبنان کو کرسمس سے امیدیں وابستہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان میں تہواروں کے سیزن خاص طور پر کرسمس اور نئے سال کے موقع پر سیاحتی بکنگ میں گذشتہ مہینوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی معلومات کے ادارے سے وابستہ محقق محمد شمس الدین کے مطابق آنے والے مسافروں کی تعداد اور اخراجات کے حجم میں مثبت اشارے سامنے آئے ہیں، تاہم میڈیا میں گردش کرنے والے اعداد و شمار اور حقیقی اعداد میں فرق کرنا ضروری ہے۔

شمس الدین کے مطابق عام دنوں میں بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر روزانہ 6500 سے 7500 مسافر آتے ہیں، جبکہ کرسمس کے اس عرصے میں یہ تعداد 14 سے 15 ہزار یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مسافر کرسمس کی وجہ سے آئے ہوں، بلکہ اصل اضافی تعداد تقریباً 7 سے 8 ہزار مسافر روزانہ بنتی ہے۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ کرسمس کی تعطیلات کے دوران 75 سے 80 ہزار سیاح لبنان کا رخ کریں گے، نہ کہ لاکھوں کی تعداد جیسا کہ بعض اوقات دعوی کیا جاتا ہے۔ یہ سیاح عموماً 15 سے 20 دن قیام کرتے ہیں۔

اقتصادی اثرات کے حوالے سے ایک مسافر کا اوسط خرچ 1000 سے 1500 ڈالر کے درمیان بتایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں لبنانی مارکیٹ میں تقریباً 10 سے 11 کروڑ ڈالر کی رقم داخل ہونے کا امکان ہے۔ موجودہ حالات میں یہ رقم لبنانی معیشت کے لیے حقیقی سہارا سمجھی جا رہی ہے۔ اس بہتری کا اثر ریستورانوں اور تقریبات کی بکنگ پر بھی پڑا ہے، جہاں بیروت اور جبل لبنان میں 80 فی صد سے زائد گنجائش تک بکنگ ہو چکی ہے۔

سیاحتی اداروں کے سیکرٹری جنرل جان بیروتی کے مطابق بیروت کے ہوٹلوں میں کرسمس کے دوران کمروں کا استعمال تقریباً 86 فی صد تک پہنچ گیا، جبکہ دارالحکومت سے باہر خصوصاً جبل لبنان میں یہ شرح 60 سے 70 فیصد رہی۔ ان کے مطابق یہ اعداد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اس سال سیاحتی سرگرمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ زیادہ طلب کے باوجود ہوٹلوں کے نرخ مجموعی طور پر مستحکم رہے اور قیمتوں میں اضافہ محدود اور منطقی حد تک ہی ہوا۔

ادھر بیروت میں ایک ٹریول ایجنسی کے مالک مازن نداف کے مطابق اس سال کرسمس کے دوران سیاحتی بکنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر 22 سے 24 دسمبر اور نئے سال کے دنوں میں۔ یورپ اور خلیجی ممالک سے بڑی تعداد میں بکنگ سامنے آئی ہے، جس کے باعث کئی عرب اور یورپی ایئرلائنز نے بیروت کے لیے اضافی پروازیں بھی چلائیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تمام اشاریے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ سرگرمی محدود مدت کی ہے، لیکن لبنان کا سیاحتی شعبہ کم از کم استحکام میسر ہونے پر تیزی سے بحالی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں