بھارت : سیکیورٹی فورسز نے ماؤ نواز کمانڈر اور دو خواتین سمیت چار علیحدگی پسند ہلاک کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ماؤ نواز علیحدگی پسند سینیئر کمانڈر اور اس کے تین دوسرے ساتھیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہے جنہیں جمعرات کے روز ایک کارروائی کے دوران قتل کیا گیا۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کو ماؤ نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف بڑی کارروائی قرار دیا۔

بھارتی سرکار نے بھارت سے علیحدگی چاہنے والے ماؤ نوازوں کے خلاف مارچ 2026 سے ہمہ گیر نوعیت کی جارحانہ مہم شروع کر رکھی ہے۔

مشرقی ریاست اڑیسا میں پولیس کا کہنا ہے کہ مارا جانے والے ماؤ نواز سینیئر کمانڈر کا نام گنیش تھا اور اسے فائرنگ کر کے ضلع کاندھامل میں ہلاک کیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی انٹیلی جنس کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر کی ہے۔ گنیش کی عمر تقریباً 70 سال تھی اور وہ ساحلی ریاست میں علیحدگی پسندوں کی کمان کر رہے تھے۔ جس کے سر کی قیمت بھارتی سرکار نے 1 لاکھ 20 ہزار ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔

واقعے کے بعد کارروائی کی جگہ سے 4 ماؤ نوازوں کی لاشیں سامنے آئیں۔ یہ بات ریاستی پولیس کے افسر یوگیش بہادر نے لاشوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا ماؤ نواز کمانڈر کے علاوہ دیگر بھی مارے گئے جبکہ ان میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔

تاہم کمانڈر کے علاوہ باقی لوگوں کی شناخت ابھی سامنے نہیں لائی گئی ہے۔

سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی بھی سیکیورٹی اہلکار ہلاک نہیں ہوا۔ یاد رہے ایک روز قبل اسی ریاست میں دو ماؤ نواز بدھ کے روز بھی ہلاک کیے گئے تھے۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے نیکسل باغیوں کی باقیات کے خلاف جگہ جگہ کریک ڈاؤن شروع کر رکھے ہیں۔ہمالیائی پہاڑی کے 'فٹ ہلز' میں ماؤ نواز تحریک پچھلے تقریبا 60 سال سے جاری ہے۔

ایک زمانے میں ان ماؤ نواز باغیوں کا ملک کے ایک تہائی علاقے پر کنٹرول رہا ہے۔ جن کی تعداد 15 ہزار سے 20 ہزار تھی۔ جو سنہ 2000 تک موجود رہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ان کی تعداد میں بہت کمی آچکی ہے اور یہ باغی بہت کمزور ہو چکے ہیں۔

بھارتی سرکار کے مطابق سنہ 2024 سے لے کر اب تک 500 ماؤ نواز باغیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں