مصر: دماغی تھکاوٹ کی باعث الیکٹرانک گیمز کو منظم کرنے کی پارلیمانی تجویز

آکسفورڈ یونیورسٹی سال 2025 کو ''دماغی تھکن'' کا سال قرار دیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بچوں پر الیکٹرانک گیمز کے اثرات کا معاملہ مصر میں دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ ان کھیلوں کے ممکنہ منفی اثرات جیسے رویوں میں تبدیلی، ذہنی صحت پر اثرات اور بعض گیمز میں موجود نامناسب مواد یا غیر اخلاقی خیالات کی وجہ سے بچوں کی اخلاقی اور تربیتی اقدار متاثر ہو سکتی ہیں۔

سینٹ کی رکن ڈاکٹر ولاء ہرمس رضوان نے اس سلسلے میں وزیر اعظم اور وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ایک تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد Roblox پلیٹ فارم اور دیگر الیکٹرانک گیمز کو منظم کرنا ہے تاکہ بچوں اور نوجوانوں کی اخلاقی اور تربیتی اقدار کی حفاظت کی جا سکے۔ پلیٹ فارم کے استعمال سے پیدا ہونے والے نفسیاتی اور رویوں کے خطرات کو کم کیا جا سکے، الیکٹرانک گیمز کی مجموعی سرگرمیوں کو قانونی اور ضابطہ شدہ شکل دی جا سکے۔

ماہرین اور والدین کے درمیان سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا ان کھیلوں کو واضح قوانین اور ضوابط کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟ روزمرہ رویوں اور ذہنی و سماجی صحت پربچوں پر ان کے اثرات کو کس حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ولاء ہرمس رضوان نے "العربيہ ڈاٹ نیٹ " اور "الحدث ڈاٹ نیٹ " سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز سینٹ میں آرٹیکل 113 اور آئین کے آرٹیکل 133 کے تحت پیش کی گئی ہے، جو اراکین کو اختیار دیتا ہے کہ وہ سماجی اور کمیونٹی مسائل پر متعلقہ حکام کے سامنے تجاویز پیش کر سکیں۔

ڈاکٹر ولاء ہرمس رضوان نے کہا کہ روبلوکس پلیٹ فارم نے حال ہی میں مصر میں بچوں اور کم عمر نوجوانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے معاشرتی تشویش پیدا کی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے ممکنہ نفسیاتی، سماجی اور تربیتی اثرات سامنے آ سکتے ہیں، جو مخصوص مطالعے اور ماہر تجزیے کے محتاج ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پلیٹ فارمز صرف تفریح تک محدود نہیں، بلکہ اس میں تفاعلی کھیل، سماجی رابطے اور صارفین کو مواد بنانے کا موقع بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے بچے نامناسب مواد یا رویوں کے سامنے آ سکتے ہیں جو ان کی تربیت اور اقدار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر رضوان نے مزید کہا کہ اس تجویز کا مقصد واضح ضوابط قائم کرنا ہے ،جو بچوں کی حفاظت کریں، الیکٹرانک پلیٹ فارمز پر نگرانی کو مضبوط بنائیں اور ڈیجیٹل تفریح اور تعلیمی و تربیتی فوائد کے درمیان توازن قائم کریں، جبکہ معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو بھی محفوظ رکھا جائے۔

اس تجویز میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ تمام بچوں کے لیے استعمال ہونے والے الیکٹرانک گیمز کے پلیٹ فارمز کو قانونی اور ریگولیٹری نگرانی کے تحت لایا جائے، تاکہ بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور حکومت ان کے لیے فراہم کیے جانے والے ڈیجیٹل مواد پر مؤثر طریقے سے نظر رکھ سکے۔

بچوں اور الیکٹرانک گیمز - آئی سٹاک
بچوں اور الیکٹرانک گیمز - آئی سٹاک

ڈاکٹر ولاء ہرمس رضوان نے بتایا کہ یہ اقدام نوجوان نسل کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے اور الیکٹرانک گیمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ یہ تکنیکی ترقی اور مصر کے معاشرتی تقاضوں کے مطابق ہو۔

نفسیاتی اثرات کے حوالے سے ڈاکٹر جمال فرویز ماہر نفسیات نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ الیکٹرانک گیمز بچوں پر نفسیاتی اور رویوں کے نقصانات مرتب کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ضرورت سے زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔مزید برآں آکسفورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بتایا گیا کہ سال 2025 کو "دماغی تھکن کا سال" قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ بچوں اور نوجوانوں میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک گیمز کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے۔

ڈاکٹر جمال فرویز نے وضاحت کی کہ الیکٹرانک گیمز کا ضرورت سے زیادہ استعمال بچوں میں زیادہ چڑچڑا پن، دماغ کی بعض نیوران خلیات کو نقصان اور توجہ و ارتکاز کی کمی کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

بچوں اور الیکٹرانک گیمز -آئی سٹاک
بچوں اور الیکٹرانک گیمز -آئی سٹاک

انہوں نے بتایا کہ موجودہ جرائم میں سے ایک بڑا حصہ ان ڈیجیٹل ذرائع کے غیر منظم استعمال سے پیدا ہونے والی چڑچڑا پن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک ساتھ دماغ، آنکھ اور انگلیوں کا طویل وقت تک کام کرنا نیوران خلیات پر شدید دباؤ ڈال دیتا ہے اور یہ اثر بچوں پر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر فرویز نے خاندان خاص طور پر ماوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو صحت مند متبادل سرگرمیاں فراہم کرنا ضروری ہے، جیسے:تیراکی یا ٹینسکسی بھی کھیل یا فنون کی مہارتیں سیکھنا،یہ سرگرمیاں بچوں کو الیکٹرانک گیمز کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے دور رکھتی ہیں اور ان کے نفسیاتی اور رویوں کے توازن کو بہتر بناتی ہیں، جس سے ان کی صحت مند نشوونما اور تعلیمی کامیابی یقینی بنتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں