امریکی محکمہ انصاف نے پیر کو اعلان کیا کہ ٹیکساس کے ایک 21 سالہ شخص پر وفاقی ادارہ برائے تحقیقات نے بین الاقوامی دہشت گردی کا باضابطہ الزام عائد کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس نے ان لوگوں کو بم بنانے کا مواد اور رقم فراہم کی تھی جو اس کے خیال میں داعش سے وابستہ تھے۔
محکمہ انصاف نے کہا کہ میڈلودیئن، ٹیکساس کے جان مائیکل گارزا جونیئر پر ایک در پردہ وفاقی ایجنٹ کو بم بنانے والا مواد دینے کا الزام ہے جو اس کے خیال میں "داعش سے تعلق رکھنے والا بھائی" تھا۔
عدالتی ریکارڈز میں گارزا کے لیے کسی وکیل کا نام درج نہیں تھا اور ڈیلاس میں وفاقی وکیلِ صفائی کے دفتر نے تبصرے کے لیے پیغامات کا فوری جواب نہیں دیا۔ جرم ثابت ہو جانے پر گارزا کو 20 سال تک وفاقی جیل میں قید ہو سکتی ہے۔
حکام نے بتایا کہ نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک خفیہ ملازم کو گارزا کے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا سراغ ملا جس کے بعد 22 دسمبر کا سٹنگ آپریشن کیا گیا۔ اس کے بعد داعش کی حمایت کرنے والے متعدد اکاؤنٹس کا بھی سراغ ملا۔ (سٹنگ آپریشن مجرمان کو پکڑنے کے لیے ایک پرفریب کارروائی ہوتی ہے)۔
نیویارک پولیس کے ملازم نے اکتوبر میں گارزا سے پیغام رسانی شروع کی اور محکمہ انصاف نے بتایا کہ گارزا نے جلد ہی اسے آگاہ کیا کہ وہ "داعش کے نظریے سے وابستہ اور متأثر تھا۔" گارزا پر در پردہ ملازم کو نومبر اور دسمبر میں تھوڑی مقدار میں کرپٹو کرنسی بھیجنے کا الزام ہے جسے مبینہ طور پر یقین تھا کہ اس کی رقم داعش کی مالی اعانت کرے گی۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ 22 دسمبر کی ملاقات کے دوران گارزا نے ایف بی آئی کے در پردہ ایجنٹ کو بتایا کہ اس کے فراہم کردہ دھماکہ خیز مواد کو کیسے ملانا تھا اور بم بنانے سے متعلق ایک ہدایتی ویڈیو بھیجنے کی پیشکش کی۔ گارزا کو اس ملاقات سے رخصت ہونے کے کچھ ہی دیر بعد گرفتار کر لیا گیا۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے ایک بیان میں کہا، "آج کا اعلان دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایف بی آئی کے عزم کو نمایاں اور امریکی عوام کے خلاف دہشت گردی کی سازشیں روکنے اور ناکام بنانے کے لیے ہمارے مسلسل کام کو ظاہر کرتا ہے۔"
نیز کہا، "یہ ان لوگوں کے لیے ایک انتباہ کے طور پر کام کرے گا جو دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے امریکہ کے خلاف حملوں کا منصوبہ بناتے ہیں - آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔"
گارزا نے 23 دسمبر کو امریکی ضلعی عدالت برائے شمالی ٹیکساس میں ابتدائی پیشی دی تھی۔ توقع ہے کہ وفاقی وکلاء استغاثہ منگل کو ممکنہ سماعت میں اس کے خلاف ثبوت پیش کریں گے۔