مشرقی یمن کی حضر موت گورنری میں عبوری کونسل کے جنگجووں کے کیمپوں کی حوالگی کے لیے شروع کئے گئے آپریشن کے چند گھنٹوں کے دوران ہی گورنر سالم الخنبشی نے اعلان کیا ہے کہ ہوم لینڈ شیلڈ نے حورہ ڈائریکٹوریٹ کے علاقے الخشعہ میں 37ویں بریگیڈ کے فوجی کیمپ کا کنڑول سنبھال لیا ہے۔ جنوبی مشرقی گورنری کی یہ سب سے بڑی فوجی بیس سمجھی جاتی ہے۔
جمعہ کے روز سامنے آنے والے بیان میں واضح کیا گیا ہے ہوم لینڈ شیلڈ کی فوجیں حضر موت کے وسطی شہر سیئون کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں، یہ شہر گورنری سے 360 کلومیٹر کی مسافت پر ہے، المکلا شہر اس کا صدر مقام ہے۔ انہوں نے مزید بتایا "کہ 37ویں بریگیڈ کے فوجی کیمپ میں اکا دکا دستوں نے مزاحمت کی کوشش کی، جس پر جلد ہی قابو پا لیا گیا۔"
سالم الخنبشی نے جنوبی عبوری کونسل کی کمان میں لڑنے والی فوج کو اپنی یہ پیش کش دہرائی کہ خونریزی سے بچنے کی خاطر وہ علاقے سے نکل جائیں۔
گورنر کے بہ قول انہوں نے ہوم لینڈ شیلڈ اور قبائلی جنگجووں پر زور دیا ہے کہ اپنے قبضے میں عبوری کونسل کے فوجیوں کے ساتھ مذہبی ہدایات اور مروجہ اصولوں کے تحت سلوک کریں۔
"مضحکہ خیز دعوے"
ادھر یمن کے مشرقی صوبہ حضر موت کے گورنر سالم سالم الخنبشی نے جمعہ کے روز ہی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ عبوری کونسل کا یمنی حکومت سے ہم آہنگ "ہوم لینڈ شیلڈ" کو الاخوان، القاعدہ اور حوثیوں کا ملغوبہ قرار دینا ایک مضحکہ خیز دعوی ہے۔
گورنر نے جمعہ کے روز دیے گئے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ عبوری کونسل کے یہ دعوے کہ وہ مشرقی یمن میں خونریزی کو روکنے کی کوشش میں ہے بالکل غلط اور حقیقت سے متصادم ہیں۔ اس کے ذریعے وہ خونریزی کے اپنے منصوبوں پر پردہ پوشی میں مصروف ہیں۔
دریں اثناء حضر موت کی قومی کونسل نے گورنر سالم الخنبشی کے زیر قیادت کام کرنے والے مقامی حکام اور انتظامیہ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ نیز گورنری کی حفاظت کے لیے موجود فوج اور سکیورٹی فورسز کے لیے بھی ایک بار پھر اپنی حمایت پیش کی ہے۔
قومی کونسل نے حکام اور فورسز کی طرف سے یمن کی مشرقی گورنری میں سلامتی اور انتظامی اعتبار سے پیدا شدہ خلا کو پر کرنے کے اقدامات کو بھی سراہا ہے۔
کیمپوں کی حوالگی کے آپریشن کا آغاز
گورنر حضرموت جو قومی دفاعی فورسز کی قیادت کر رہے ہیں نے جمعہ ہی کے روز اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ کیمپوں کی حوالگی کا آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پیشگی ایسے اقدامات کرنا ہے جو سلامتی اور امن کے امور کو آگے بڑھا سکے جن کی بنیاد پر کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔
الخنبشی نے اپنی ایک تقریر میں یہ واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی اور آپریشن کسی خاص سیاسی یا سماجی طبقے کے خلاف نہیں ہے نہ ہی یہ عام شہریوں کے خلاف ہے اور نہ ہی اس سے لوگوں کی زندگیاں اور مفادات متاثر ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ یہ کسی جنگ کا اعلان ہے نہ کشیدگی بڑھانے کے اقدامات ۔ بلکہ یہ ہتھیاروں کی موجودگی کو بے اثر کرنے کی ایک ذمہ دارانہ کوشش ہے۔
خیال رہے ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آنے والی تصویر میں یہ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ حضرموت کے گورنر کی قیادت میں سیکیورٹی سے متعلق ادارے پر امن طریقے سے کیمپوں کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔
عبوری حکومت چوکس و ہوشیار
جنوبی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ اس کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔ تاکہ حضرموت میں اس کی فورسز اپنی فوجی پوزیشنوں کو دوبارہ سے بحال کر سکیں۔
عبوری کونسل نے جمعرات کے روز اپنے بیان میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا تھا کہ وہ ان علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی جو اس کے زیر قبضہ آ چکے ہیں۔
یاد رہے یمن کی قومی فوج اور عبوری کونسل کی فورسز کے درمیان تصادم و کشیدگی کی یہ صورتحال پچھلے ماہ کے شروع سے جاری ہے۔ ایک طرف یمن کی قومی حکومت ہے جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے مقابل عبوری کونسل جس نے حضرموت میں حملے کر کے حیران کر دیا ہے۔