انسانی بنیادوں پر دنیا بھر میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم 'ایم ایس ایف' المعروف 'ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے اسرائیل کی مذمت کی ہے کہ اسرائیلی ریاست نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کو بڑا دھچکا دیا ہے۔
اسرائیلی ریاست نے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی 37 بین الاقوامی تنظیموں کی غزہ میں سرگرمیوں کے لیے رجسٹریشن اور اجازت منسوخ کر دی ہے۔ کیونکہ ان' این جی اوز' نے فلسطینی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا اسرائیل کو دینے سے نہ صرف غیر اخلاقی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انکار کیا بلکہ یہ ان کے طریقہ کار اور مینڈیٹ سے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی اشتعال انگیز مطالبہ ہے۔
اسرائیل کی کوشش یہ رہی ہے کہ وہ بین القوامی تنظیموں سے فلسطینیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا اور ان فلسطینیوں کو مختلف طریقوں سے اپنے نشانے پر رکھتا رہے۔
انہی خیراتی اور انسانی بنیادوں پر غزہ کے لاکھوں بے گھر شہریوں کے لیے خدمات انجام دینے والی ایک تنظیم 'ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز ' جس کے 1200 ارکان ہیں اور زیادہ غزہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹروں کی اس بین الاقوامی تنظیم نے اسرائیل کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں انسانی بنیادوں پر جاری کام کو روکنے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کہ غزہ کے لاکھوں لوگ بے گھر پڑے ہیں ان کے پاس خوراک اور ادویات و علاج کے انتہائی زیادہ مسائل ہیں ۔
Denying medical assistance is unacceptable under any circumstances.
— MSF International (@MSF) January 2, 2026
Israel’s threat to withhold registration from MSF & other INGOs is a cynical and calculated attempt to prevent organisations from providing services in Gaza and the West Bank, Palestine.https://t.co/Rl1omJAwZF
اس لیے اس کے باوجود بین الاقوامی اداروں پر اسرائیل کا پابندی لگانا اہل غزہ میں امدادی و طبی امداد کے لیے بد ترین دھچکا ہے۔
ڈاکٹروں کی اس بین الاقوامی تنظیم نے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا اسرائیلی اقدام پر اس کے قانونی اور انتہائی جائز تحفظات اور تشویش ہے۔ خاص طور پر امدادی کام رکوانے کے لیے تنظیموں کی اجازت ختم کرنے اور مزید یہ کہ ان سے فلسطینی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے این جی اوز کو دباؤ میں لانا۔
یاد رہے ڈاکٹروں کی اسی تنظیم کے اب تک پندرہ کارکنوں کو اسرائیلی فوج غزہ میں امدادی کام کے دوران قتل کر چکی ہے۔ اس کے باوجود اس تنظیم سے مطالبات کی آڑ میں اس کے کام کو ہی بند کرنے کی اسرائیلی کوشش جاری ہے۔
ڈاکٹروں کی اس بین الاقوامی تنظیم نے یہ بھی مؤقف دیا کہ اس سارے عمل کے ذریعے ایک مقصد غزہ میں انسانی بنیادوں کے کام کو ہی روکنی کی سبیل ہے۔
اسرائیل فلسطینیوں کی امداد کے لیے کام کرنے والی ہر تنظیم اور ادارے کو روکنے کے ایک مستقل نظام کو اختیار کیے ہوئے۔ اسرائیل کی 2005 میں بنانا شروع کی جانے والی دیوار بھی ایک رکاوٹ ہے۔
ڈاکٹروں کی اس تنظیم کے فلسطین کے لیے سربراہ فلپ ریبیرو نے کہا اسرائیل کی طرف سے ہمارے آپریشنز کی بندش کا اعلان فی الحال کارگر نہیں ہو سکتا البتہ ہمیں ساٹھ دن تک کی مہلت دی گئی ہے کہ ہم دو ماہ کے اندر اندر علاقے سے نکل جآئیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اسرائیل ساٹھ دن ہمیں یہاں کام کرنے دے گی یا اس سے پہلے ہی نکالنے کے اقدامات کرے گی۔
-
غزہ فلسطینیوں کے لیے ایک اجتماعی قبر بن چکا ہے: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز
فلسطینیوں اور امدادی کارکنان کے لیے کوئی جگہ محفوظ نہیں: رابطہ کار
بين الاقوامى -
مغربی کنارے کے فلسطینی 'انتہائی نازک' صورتِ حال سے دوچار ہیں: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز
"وہ پناہ گاہ، ضروری خدمات اور صحت کی نگہداشت تک رسائی سے محروم ہیں"
مشرق وسطی -
غزہ پراسرائیلی فوج کاحجم اور طاقت کا اندھا استعمال ناقابل قبول ہے:ڈاکٹرزودآؤٹ بارڈرز
غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائیوں کی شدت کے درمیان اسرائیل غزہ کی ...
مشرق وسطی