تہران نے ٹرمپ کے "اشتعال انگیز بیان" پر سلامتی کونسل سے رجوع کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ اگر ایرانی پُر امن مظاہرین کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا تو امریکہ انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ... ایران کے کئی اعلیٰ حکام نے اس بیان کی سخت مذمت کی۔ اسی تناظر میں ایران نے جمعہ کی شام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک با ضابطہ خط ارسال کیا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایروانی نے کہا کہ ایران صدر ٹرمپ کے مداخلت پسندانہ اور اشتعال انگیز بیان کی مذمت کرتا ہے، کیونکہ یہ بیان امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف اپنے حقوق کو مضبوط اور متناسب انداز میں استعمال کرے گا۔ ایرانی مندوب نے خبردار کیا کہ ان غیر قانونی دھمکیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی یا نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہو گی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسی طرح اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور ایرانی رہبر اعلیٰ کے مشیر علی شمخانی نے بھی ٹرمپ کے بیان پر سخت تنقید کی اور ایرانی داخلی امور میں مداخلت سے خبردار کیا۔

دوسری جانب ایرانی پولیس نے گذشتہ چھ دنوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں جاری مظاہروں کے شرکا کو تشدد اور بد امنی سے باز رہنے کی ہدایت کی۔ پولیس کے ترجمان سعید منتظر المہدی نے کہا کہ حکام تسلیم کرتے ہیں کہ یہ احتجاجات عوام کی معاشی حالات میں بہتری کی خواہش کا اظہار ہیں، تاہم پولیس جائز مطالبات اور تخریبی سرگرمیوں میں فرق کرتی ہے اور بد امنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ادھر لرستان صوبے کے سرکاری پراسیکیوٹر علی حسن وند نے خبردار کیا کہ غیر قانونی اجتماعات میں شرکت یا امن عامہ میں خلل ڈالنے والی کسی بھی سرگرمی کو جرم قرار دیا جائے گا اور اس پر سخت عدالتی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بعض عناصر پر بد امنی پھیلانے اور تشدد کے ذریعے امن کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا۔

اسی دوران اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فوکر ترک نے ایرانی حکام سے اظہار رائے اور پر امن اجتماع کے حق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ احتجاجات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران شدید معاشی بحران سے دوچار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔ حالیہ عرصے میں مقامی کرنسی ریال کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ مظاہرے کم از کم 20 شہروں تک پھیل چکے ہیں، تاہم ان کا حجم ماضی کے بڑے احتجاجات جیسا نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں