وینزویلا کے امریکی فوجیوں کے ہاتھوں اٹھائے گئے صدر نکولس مادورو کو آج منگل کے روز امریکہ میں مقدمہ چلانے کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایک کامیاب کارروائی کے نتیجے میں اٹھا لیا گیا تھا۔ جنہیں امریکہ میں قید رکھا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں مزید فوجی کارروائیوں کے حوالے سے امکانات کو رد نہیں کیا۔ تاہم کہا ہے کہ ہم وینزویلا کی عبوری حکومت بنانے کی کارروائی میں حصہ نہیں بنیں گے۔ یہ بات ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی اور واضح کیا اگر وینزویلا نے تعاون نہ کیا تو اس پر ایک اور حملہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ امریکہ وینزویلا کی تیل کی پیداوار میں شامل ہو اور منشیات کی سمگلنگ کو روک دے۔
امریکی صدر نے اپنے پڑوس میں دیگر ریاستوں کولیمبیا اور میکسیکو کو دھمکی دی ہے کہ ان میں بھی کارروائی کی جا سکتی ہے اور مزید کہا ہے کہ کیوبا کی کمیونسٹ رجیم بھی اپنی ہی وجوہات سے گرنے والی ہے۔
واشنگٹن میں موجود کولمبیا اور میکسیکو کے سفارتخانوں نے امریکی صدر کی ان دھمکیوں کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
صدر کے یہ خیالات ایسے موقع پر ظاہر کیے گئے ہیں جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اپنے گھر سے اٹھائے گئے وینزویلین صدر کو آج پیر کے روز فیڈرل جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
وینزویلا کے صدر کو وینزویلا کی خاتون اول کے ہمراہ امریکی فوج نے ہفتہ کو علی الصبح ان کے بیڈ روم سے اٹھایا تھا اور اس کارروائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے براہ راست ویڈیو میں دیکھا تھا۔
تاہم ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ امریکی فوج وینزویلا کی اہلیہ کو کب عدالت میں پیش کرے گی۔
امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ دونوں میاں بیوی کو ان کے جرائم کی وجہ سے وینزویلا کے دارالحکومت میں صدارتی محل سے اٹھایا گیا ہے۔ کیونکہ امریکہ کے بقول وہ منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی کی سازشوں میں مصروف تھے۔
تاہم خود صدر ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے میں دوسرے محرکات بھی موجود تھے۔ جن کی بنیاد پر یہ فوجی کارروائی وینزویلا کے دارالحکومت میں کرنا پڑی۔
یاد رہے وینزویلا کی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکومت نے کئی دہائیاں پہلے صنعتوں کو قومیانے کی ایک پالیسی کے تحت وینزویلا میں امریکہ کے تیل کے سلسلے میں مفادات کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایئرفورس ون کے نام سے اپنے طیارے میں فلوریڈا سے واپس واشنگٹن پہنچنے کے بعد کہا ہم اپنی چوری شدہ چیزیں واپس لیں گے اور اپنے ملک کی پیٹرولیم منسٹری کو از سر نو تعمیر کریں گے۔
انہوں نے کہا وہ اربوں ڈالر تیل کی صنعت پر خرچ کرنا چاہتے ہیں اور تیل کو زمین سے نکالنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب وینزویلا جس کے صدر اور صدر کی اہلیہ کو امریکی فوج کی ڈیلٹا یونٹ اچانک اچک لائی ہے، اس کے باوجود وینزویلا میں حکومت کا نظام بروئے کار ہے۔
نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عبوری حکومت کے ذمہ دار کے طور پر چارج سنبھال لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ نکولس مادورو ہی اب بھی ملک کے صدر ہیں۔
ڈیلسی روڈریگز نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی رد کیا ہے کہ وینزویلین نائب صدر امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔
ڈیلسی روڈریگز اس سے پہلے کئی وزارتوں کے قلمدانوں کی انچارج رہی ہیں اور صدر مادورو کی انتہائی قابل اعتماد نائبین اور معاونین میں سے ایک ہیں۔
63 سالہ مادورو کو امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ میں انوالو گروپوں کو مدد دینے کے الزامات کا سامنا ہوگا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق وہ کوکین کی سمگلنگ کے حوالے سے ہدایات دیتے رہے ہیں۔ فوج کو منشیات کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے صدارتی اختیارات اور عہدے کو بھی منشیات کی سمگلنگ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
ان کے خلاف امریکہ نے سب سے پہلے 2020 میں الزامات عائد کیے تھے اور مقدمہ درج کیا تھا۔ ہفتہ کے روز ان مقدموں میں ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
اہلیہ جنہیں ان کے شوہر سمیت امریکی فوجیوں نے گھر سے اٹھایا ہے ان پر الزام ہے کہ وہ اغوا اور قتل میں ملوث ہیں۔
صدر مادورو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ تاہم امریکہ انہیں سنہ 2018 سے ہی غیر قانونی اقدامات کا ذمہ دار سمجھتا ہے جب سے وہ الیکشن کے بعد وینزویلا کے صدر بنے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کیا ہے کہ وینزویلا کی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی اور حال ہی میں نوبل امن پرائز حاصل کرنے والی ماریہ کورینا کو وینزویلا کا اقتدار سونپا جا رہا ہے۔
اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ وینزویلا کی عبوری حکومت کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے۔ مگر وینزویلا کی عبوری حکومت کو منشیات کی سمگلنگ سے نکلنا ہوگا اور اپنے ملک کی تیل کی صنعتوں کو سب کمپنیوں کے لیے کھولنا ہوگا۔ بصورت دیگر وینزویلا نئے الیکشن کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آج پیر کے روز ہی وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو فوج استعمال کرتے ہوئے ان کے بیڈ روم سے اٹھائے جانے کے افسوسناک واقعے پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس واقعے کو انتہائی بری مثال قرار دیا ہے۔
خود امریکہ میں بھی اس واقعے کے خلاف آوازیں اٹھی ہیں اور نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے اس امریکی اقدام کی مذمت کی ہے۔