سوڈان میں تشدد میں اضافہ، دارفور میں ایک ہفتے کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک
وسط دسمبر سے اب تک شمالی اور جنوبی کردفان میں بدامنی کے باعث 11 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں
اتوار کے روز طبی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی فرانس پریس کو بتایا کہ مغربی سوڈان میں مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں ایک ہی ہفتے کے دوران 114 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دارفور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں مغربی اور جنوبی سوڈان میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے دارفور کے خطے پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور کردفان کے شہروں کی جانب پیش قدمی کی، جہاں اتوار کے روز ایک بجلی گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔
شمالی دارفور کے علاقے الزرق کے ہسپتال میں ایک طبی ذریعے نے فرانس پریس کو بتایا کہ ہفتے کے روز فوج کی جانب سے ڈرون حملوں میں الزرق اور اس کے گرد و نواح میں 51 شہری ہلاک ہو گئے۔
ریپڈ سپورٹ فورسز نے فوج پر الزام عائد کیا کہ اس نے ریاست شمالی دارفور کے علاقوں الزرق اور غرِیر کو نشانہ بنایا، جو ایک مکمل جنگی جرم ہے اور شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
اس حملے میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو کے خاندان کے دو افراد بھی مارے گئے، جو الزرق میں مقیم تھے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق ان کے نام موسیٰ صالح دقلو اور عوض موسیٰ صالح دقلو تھے۔
دوسری جانب کرنوی (الزرق سے 170 کلومیٹر مغرب) کے مقامی اسپتال میں ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پانچ دن میں ریپڈ
پورٹ فورسز کے حملوں میں کرنوی کے اطراف کے علاقوں میں 63 شہری ہلاک اور 57 زخمی ہو گئے۔
کرنوی کے مقامی ذرائع کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 17 افراد تاحال لاپتا ہیں۔حالیہ ہفتوں میں ریپڈ سپورٹ فورسز نے مغرب کی جانب سوڈان اور چاڈ کی سرحد تک پیش قدمی کی ہے، خاص طور پر مقامی قبائل کے علاقوں میں جن میں زغاوہ قبیلہ بھی شامل ہے۔
زغاوہ قبیلے کے کچھ افراد فوج کے اتحادی مشترکہ دستے کے ساتھ لڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی جنجوید ملیشیا کے ساتھ پرانی دشمنی ہے، جو ریپڈ سپورٹ فورسز کی بنیاد بنی تھی اور جس کی جڑیں دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں دارفور کی جنگ سے ملتی ہیں۔ریپڈ سپورٹ فورسز نے دسمبر کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ابو قمرہ اور ام برو پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چاڈ کی سرحد کے قریب واقع ہیں ،جہاں زغاوہ قبائل آباد ہیں۔
کردفان میں بجلی کی بندش
دارفور سے ملحقہ ریاست شمالی کردفان میں اتوار کے روز شہر الابیّض میں بجلی منقطع ہو گئی۔ سوڈان الیکٹریسٹی کمپنی کے مطابق یہ بندش ڈرون حملے کے نتیجے میں ہوئی، جس میں بجلی پیدا کرنے والے اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔
اکتوبر میں شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ریپڈ سپورٹ فورسز نے پورے خطے پر اپنی گرفت مضبوط کر لی، سوائے چند چھوٹے علاقوں کے جو غیر جانبدار مسلح گروہوں یا فوج کے اتحادیوں کے کنٹرول میں ہیں۔
بعد ازاں ان فورسز نے ہمسایہ علاقے کردفان تک اپنے حملے وسیع کر دیے۔الاُبیّض اس وقت فوج کے کنٹرول میں ہے، جبکہ ریپڈ سپورٹ فورسز اسے گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جنوبی سوڈان تک پھیلا ہوا کردفان کا خطہ تیل کے ذخائر اور زرخیز زمینوں سے مالا مال ہے، دارفور اور دارالحکومت خرطوم کے درمیان ایک نہایت اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جس پر فوج کا کنٹرول ہے۔سوڈان الیکٹریسٹی کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ الاُبیّض پاور اسٹیشن پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مشینری کی عمارت میں آگ لگ گئی اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔بدھ کے روز مشترکہ فورس نے شمالی کردفان میں الاُبیّض کے جنوب میں واقع متعدد شہروں پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان بھی کیا۔
مسلح جدوجہد کی تحریکوں پر مشتمل مشترکہ فورس نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے محور شمالی کردفان میں شاندار میدانی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اہم علاقوں پر پیش قدمی اور کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے، جن میں کازقیل، حمادی، الرباش، ہیبیلا اور الدبیبات نمایاں ہیں، جہاں باغی ملیشیا کے عناصر کو بھاری جانی و عسکری نقصان پہنچانے کے بعد مکمل طور پر علاقے سے پاک کر دیا گیا۔
فوج کے ایک ذریعے نے خبر رساں ایجنسی فرانس پریس کو بتایا کہ اس پیش رفت سے الاُبیّض اور الدلنج کے درمیان راستہ کھل جائے گا، جہاں فوج کا کنٹرول ہے، جبکہ ریاست جنوبی کردفان میں ریپڈ سپورٹ فورسز نے الدلنج کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں لاکھوں افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق گزشتہ سال دسمبر کے وسط سے اب تک شمالی اور جنوبی کردفان سے عدم تحفظ کے باعث 11 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔اپریل 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک سوڈان کے اندر اور باہر 11 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد گنجان کیمپوں یا دور دراز شہروں میں رہنے پر مجبور ہے، جہاں خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیتا ہے۔