واشنگٹن کی سیاست میں طویل عرصہ گزارنے والے جو بائیڈن کو نہ صرف امریکہ کا 46 واں صدر ہونے کا اعزاز ملا، بلکہ انہیں امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ ریٹائرمنٹ پنشن بھی حاصل ہوئی ہے، جو ان کی صدارت کے دوران ملنے والی تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔
نیشنل ٹیکس پیئر یونین فاؤنڈیشن کے نائب صدر ڈیمین بریڈی کے تجزیے کے مطابق 83 سالہ جو بائیڈن کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سالانہ تقریباً 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر پنشن ملتی ہے، جبکہ بطور صدر ان کی سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالر تھی۔ یہ رقم امریکی تاریخ میں سابق صدور کو ملنے والی سب سے بڑی پنشن ہے اور سابق صدر باراک اوباما کی ریٹائرمنٹ آمدن سے تقریباً دگنی ہے۔
یہ بلند رقم بائیڈن کے منفرد سیاسی سفر کا نتیجہ ہے۔ وہ چار دہائیوں سے زائد عرصہ سینیٹر رہے، پھر نائب صدر اور بعد ازاں صدر بنے۔ اس طویل سروس کے باعث انہیں قانون میں موجود ایک شق کے تحت مختلف سرکاری پنشنز یکجا کرنے کا فائدہ ملا۔
بائیڈن کو ایک جانب سابق صدر کی حیثیت سے سالانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملتے ہیں، جبکہ کانگریس کی سول ریٹائرمنٹ اسکیم کے تحت بھی انہیں اضافی رقم ملتی ہے، جو اندازاً ایک لاکھ 66 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے، اگرچہ قانونی حد کے باعث اس پر ایک حد لاگو ہے۔
پنشن کے علاوہ 1958 کے قانون کے تحت سابق صدور کو دفاتر، عملہ اور دیگر سہولیات بھی دی جاتی ہیں۔ 2026 کے بجٹ میں بائیڈن کے لیے 15 لاکھ ڈالر سے زائد مختص کیے گئے، جن میں صرف دفتر کے کرائے کی مد میں 7 لاکھ 27 ہزار ڈالر شامل ہیں، جو تمام سابق صدور میں سب سے زیادہ ہیں۔
ان مراعات پر تنقید بھی کی جا رہی ہے، اور کانگریس میں پنشن اور سہولیات محدود کرنے کی تجاویز زیر غور رہی ہیں، تاہم اب تک کوئی نیا قانون منظور نہیں ہو سکا۔