آئندہ ہفتے ... ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کونسل کا اعلان متوقع
امریکی صدر جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی کا بھی اعلان کریں گے
امریکی حکام نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئندہ ہفتے غزہ کی پٹی کے لیے 'امن کونسل' کے قیام کا اعلان متوقع ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ کونسل کے قیام کے بعد فلسطینی علاقے میں جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف پیش رفت کی جائے گی۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ “axios” نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔
امریکی صدر اس سے قبل یہ بھی بتا چکے ہیں کہ رواں سال کے آغاز میں ان عالمی رہنماؤں کے ناموں کا اعلان متوقع ہے جو غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے امن کونسل میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متعدد عالمی رہنماؤں نے اس کونسل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے جسے غزہ منصوبے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اسی منصوبے کی بنیاد پر اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔
ادھر ایک امریکی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے تجویز دی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے سابق بین الاقوامی نمائندے نکولائی ملادینوف کو غزہ میں زمینی سطح پر امن کونسل کا نمائندہ مقرر کیا جائے، تاکہ وہ مستقبل میں قائم کی جانے والی فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔
یاد رہے کہ17 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں غزہ کی پٹی میں “امن کونسل” کے قیام کا خیر مقدم کیا گیا۔ اس کونسل کو ایک عبوری انتظامی ادارہ قرار دیا گیا ہے جسے بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔ اس کی ذمے داری غزہ کی بحالی کے لیے عملی فریم ورک تیار کرنا اور مالی وسائل کی ہم آہنگی کرنا ہوگی۔
امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی مذکورہ قرراد 13 ممالک کی حمایت سے منظور ہوئی، جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل اور حماس تنظیم دونوں نے منصوبے کے بعض پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا۔
یہ قرارداد صدر ٹرمپ کے تیار کردہ 20 نکاتی امن منصوبے پر مبنی ہے، جسے اکتوبر 2025 میں شرم الشیخ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران تمام فریقوں کی منظوری حاصل ہوئی تھی۔
ترکیہ، پاکستان، آذربائیجان اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم ان ممالک نے واضح کیا ہے کہ شرکت سے قبل انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے باضابطہ اجازت درکار ہوگی۔
امن کونسل کا کردار غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کے لیے عوامی اور بلدیاتی خدمات کی نگرانی کرنے والی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی کارکردگی پر نظر رکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کونسل غزہ کی تعمیر نو کے لیے عملی فریم ورک ترتیب دینے اور ترقی کے لیے مختص مالی وسائل کے انتظام کی ذمہ داری بھی سنبھالے گی۔