جنوبی عبوری کونسل کا تحلیل ہونا مستقبل کے لیے دلیرانہ فیصلہ ہے: سعودی وزیر دفاع

انہوں نے انکشاف کیا کہ ریاض جنوبی مکالمہ کانفرنس کی تیاری کے لیے ایک تیاری کمیٹی تشکیل دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمن میں قیادت کی جانب سے جنوبی عبوری کونسل اور اس کے تمام مرکزی و ذیلی اداروں کو تحلیل کرنے کے فیصلے کو ایک دلیرانہ قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی مسئلے کے مستقبل کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے اور اس سے جنوبی علاقوں کے دیگر افراد کی ریاض کانفرنس میں شرکت کی حوصلہ افزائی ہوگی، تاکہ وہ اپنی اجتماعی قومی جدوجہد کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔

انہوں نے آج جمعے کے روز ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب جنوبی شخصیات سے مشاورت کے بعد ایک تیاری کمیٹی تشکیل دے گا جو جنوبی مکالمہ کانفرنس کی تیاری کرے گی۔ اس کانفرنس میں جنوبی یمن کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بلا امتیاز شریک ہوں گی۔ سعودی عرب اس کانفرنس کے نتائج کی حمایت کرے گا تاکہ انہیں یمن میں جامع سیاسی حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کی میز پر پیش کیا جا سکے۔

جنوبی عبوری کونسل کی تحلیل کا اعلان حضرموت اور المہرہ میں حالیہ پیش رفت، کشیدگی میں اضافے اور مفاہمتی کوششوں کی مخالفت کے بعد کیا گیا، جن کے جنوبی سیاسی منظرنامے پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔

شہزادہ خالد بن سلمان کے مطابق اب جنوبی مسئلے کے لیے ایک حقیقی اور سنجیدہ راستہ موجود ہے جس کی سرپرستی سعودی عرب کر رہا ہے اور جسے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی مسئلہ ایک منصفانہ مسئلہ ہے جسے کسی بھی سیاسی تصفیے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اسے یمن کے قومی مکالمے اور آئندہ سیاسی عمل کا لازمی حصہ سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ جنوبی مسئلے کا حل باہمی اتفاق، وعدوں کی پاسداری اور تمام یمنی عوام کے درمیان اعتماد سازی کے ذریعے ممکن ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی عبوری کونسل کے اراکین کا وفد حال ہی میں ریاض پہنچا تھا تاکہ "جنوبی ۔ جنوبی مکالمہ" کانفرنس میں شرکت کر سکے۔ انہوں نے سعودی کردار کو جنوبی عوام کی امنگوں کے مطابق حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش قرار دیا۔

آخر میں بتایا گیا کہ کونسل کی تحلیل کا فیصلہ اس تاثر کے بعد سامنے آیا کہ یہ ادارہ عیدروس الزبیدی کے ذاتی مفادات کا آلہ بن چکا تھا، جس کے باعث جنوبی عوام کے حقیقی مطالبات پس منظر میں چلے گئے اور سابقہ سیاسی معاہدوں سے حاصل ہونے والی پیش رفت کمزور پڑ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں