امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کی بنیاد پر امریکہ کو ہونے والی آمدنی کے تحفظ کے لیے ایک ہنگامی حکمنامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ وینزویلا کے صدر کو ان کی اہلیہ سمیت اٹھوانے کے امریکی صدر کے حکم پر عمل کے بعد ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
صدر ٹرمپ 28 دسمبر کے بعد سے مسلسل وینزویلا کے بارے میں اپنے تیل سے متعلق بنیادی ہدف پر بات کرتے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے جمعہ کے روز ایک نئے ہنگامی حکمنامے پر دستخط کر کے امریکی دولت کے تحفظ کا اقدام کرنےکی راہ ہموار کر دی ہے۔ نیز حکمنامے پر دستخط کے ذریعے امریکی مفادات کی پالیسی آگے بڑھائی جا سکے۔ وائٹ ہاؤس نے اس جاری کردہ حکمنامے کے ساتھ حقائق پر بنی صفحات بھی منسلک کیے ہیں۔
یہ اقدام صدر ٹرمپ نے امریکی آئل کمپنیوں کے انتظامی عہدے داروں کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا ہے۔ اس ملاقات کے دوران آئل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدے داروں کو بھی اپنے حالیہ اقدام کے بعد کی صورتحال میں دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے کہا ہے۔
صدر ٹرمپ سے ہونے والی اس ملاقات میں امریکی آئل کمپنی ایگزون موبل کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ جب تک اصلاحات نہیں کی جاتیں وینزویلا سرمایہ کاری کے قابل حالات والا ملک نہیں ہے۔ یاد رہے ایگزون اور کونوکو فلپس نامی امریکی کمپنیوں نے 2007 سے اپنے آپ کو الگ کر لیا تھا۔
ان دونوں امریکی کمپنیوں نے وینزویلا کے اس وقت کے صدر ہوگو شاویز کے مطالبات ماننے سے انکار کیا تھا۔ ہوگو شاویز نے امریکی سرمایہ کار کمپنیوں کے حصص وینزویلا کے قبضے میں لیے تھے۔ تب سے یہ امریکی کمپنیاں وینزویلا سے اپنا سرمایہ واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس وقت امریکہ کی جس اکلوتی کمپنی کو وینزویلا میں ایک آئل کمپنی کے طور پر کام کا لائسنس میسر ہے وہ شیوران ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے جمعہ کے روز قومی ہنگامی حالت کے ذمرے میں حکمنامے پردستخط کیے گئے ہیں وائٹ ہاؤس کے مطابق اس کے تحت صدر ٹرمپ کو وینزویلا کو امریکی قومی مفادات کے خلاف اقدامات سے روک رہے ہیں۔
اس حکمنامے کے ذریعے وینزویلا کو امریکی آئل کمپنیوں کے وسائل ضبط کرنے سے روک کر ان کوششوں سے بھی وینزویلا کو روک دیا گیا ہے جو وینزویلا کے اقتصادی وسیاسی استحکام کے لیے امریکی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔
وینزویلا 2019 تک امریکہ کو خام تیل فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک تھا ، مگر اس کے بعد وینزویلا کے اقدامات نے اس سلسلے کو روک کر امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا، یہ سلسلہ ابھی تک جاری تھا۔ اس سے وینزویلا کو بھی نقصان پہنچا اور اس نے 2024 میں دنیا کے کل خام تیل کا صرف ایک فیصد پیدا کیا۔
تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی بین الاقوامی تنظیم 'اوپیک ' کے مطابق وینزویلا کے تیل کی پیداوار میں یہ کمی برسوں کی کم سرمایہ کاری اور پابندیوں کی وجہ سے ہوئی۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ کے خیال میں امریکہ کے حالیہ اقدامات کے نتیجے میں امریکہ کو تیل کے شعبے میں فوائد حاصل ہوں گے اور امریکہ میں مقامی طور پر تیل کی قیمتیں نیچے آ سکیں گی۔ واضح رہے امریکہ میں یہ وسط مدتی انتخابات کا سال ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا یہ فائدہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے بہت مفید ثابت ہونے کی امید ہے۔
سابق صدر جوبائیڈن کو بھی 2022 میں وسط مدتی انتخابات سے قبل سعودی عرب کا دورہ کرنا پڑا تھا تاکہ سعودی عرب کو تیل کی پیداوار بڑھانے پر مائل کریں اور امریکہ میں تیل کی قیمتیں کم ہو سکیں۔ تاہم سعودی عرب نے یہ مطالبہ نہیں مانا تھا۔ اب صدر ٹرمپ نے وینزویلا سے درخواست کرنے کے بجائے وہاں ایک غیر معمولی فوجی کارروائی کر کے امریکہ میں تیل کی قیمتیں کم کرنے کی ایک اپنے انداز کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ابھی وسط مدتی انتخابات میں کئی مہینے باقی ہیں۔