فلکیات کے شوقین افراد آج ایسے فلکیاتی مناظر کا مشاہدہ کر یں گے ،جو عرب دنیا کے آسمان کو سجا رہاہے، اور جنہیں ننگی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔آج بدھ کو غروبِ آفتاب کے بعد اور پوری رات عرب دنیا کے آسمان میں آسمان کے روشن ترین ستارے شِعریٰ یَمانی (Sirius) کے قریب ایک مدھم سا جسم دیکھا جا سکے گا۔
شِعریٰ یَمانی ننگی آنکھ سے دیکھے جانے والے سب سے آسان ستاروں میں سے ایک ہے۔ اس کی پہچان جبار (Orion) کے جھرمٹ میں موجود سیدھی قطار میں تین ستاروں جنہیں جبار کی پٹی کہا جاتا ہے، کے ذریعے آسانی سے کی جا سکتی ہے، کیونکہ اس قطار کا سیدھا رخ شِعریٰ یَمانی کی طرف جاتا ہے۔
جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ کے مطابق:اس ستارے کے قریب نظر آنے والا مدھم دھبہ کوئی دمدار ستارہ (کومیٹ) نہیں بلکہ ایک کھلا ستاروں کا جھرمٹ ہے جسے میسیے 41 کہا جاتا ہے، جو شِعریٰ یَمانی کے جنوب میں واقع ہے۔ دوربین یا چھوٹے ٹیلی اسکوپ سے دیکھنے پر اس کی دھندلی شکل بعض اوقات مبصرین کو دھوکہ دے سکتی ہے اور وہ اسے دمدار ستارہ سمجھ لیتے ہیں۔
ابو زاہرہ نے وضاحت کی کہ یہ غلط فہمی نئی نہیں۔ اٹھارویں صدی میں فرانسیسی ماہرِ فلکیات شارل میسیے نے اس جرمِ فلکی کو اپنی مشہور فہرست میں نمبر 41 کے تحت شامل کیا تھا۔ میسیے دراصل دمدار ستاروں کی تلاش میں رہتے تھے اور انہوں نے یہ فہرست اس لیے تیار کی تھی تاکہ ایسے مستقل فلکی اجسام کی نشاندہی کی جا سکے جو مبصرین کو دمدار ستاروں سے مشابہ محسوس ہوں۔
یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ میسیے 41 سن 1654 سے پہلے بھی مبصرین کے علم میں تھا اور تاریخ کے مختلف ادوار میں مثالی موسمی حالات میں اسے ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتا تھا۔
خلا میں اس کا حقیقی قطر تقریباً 25 نوری سال ہے اور اس میں لگ بھگ 100 ستارے شامل ہیں، جن میں کئی سرخ دیو ستارے بھی موجود ہیں۔یہ ستاروں کا جھرمٹ نسبتاً کم عمر سمجھا جاتا ہے، جس کی عمر کا اندازہ 190 سے 240 ملین سال کے درمیان لگایا گیا ہے، جبکہ سورج کی عمر تقریباً 4اعشاریہ6 ارب سال ہے۔یہ جھرمٹ موسمِ سرما کی راتوں کو مزین کرنے والے خوبصورت فلکی اجسام میں شمار ہوتا ہے اور دوربین یا چھوٹے ٹیلی اسکوپ کی مدد سے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
بالائی شمسی اقتران
اسی تناظر میں سیارہ عطارد آج بدھ کے روز اس فلکیاتی مرحلے تک پہنچتا ہے جسے بالائی شمسی اقتران کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا فلکی لمحہ ہوتا ہے جب عطارد زمین کے مقابلے میں سورج کے دوسری جانب واقع ہوتا ہے، یعنی سورج زمین اور عطارد کے درمیان آ جاتا ہے۔
جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ نے اپنے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ بالائی شمسی اقتران ان دو بنیادی اقترانی حالتوں میں سے ایک ہے جن سے عطارد اور زہرہ گزرتے ہیں۔ یہ دونوں زمین کے مقابلے میں سورج کے قریب ترین سیارے ہیں اور انہیں اندرونی سیارے کہا جاتا ہے۔
یہ اقتران اس وقت واقع ہوتا ہے جب زمین، سورج اور عطارد تقریباً ایک سیدھی لکیر میں آ جائیں اور عطارد سورج کے دوسری جانب زمین سے ظاہری طور پر سب سے زیادہ دوری پر ہوتا ہے۔
اس مرحلے کے دوران عطارد زمین سے مکمل طور پر نظر نہیں آتا، کیونکہ وہ سورج کی تیز روشنی کے پیچھے چھپ جاتا ہے، جس کے باعث وہ عارضی طور پر آسمان سے غائب ہو جاتا ہے، چاہے طلوعِ آفتاب سے پہلے ہو یا غروب کے بعد۔
اسی لیے یہ عرصہ سیارے کے مشاہدے کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔یہ فلکیاتی مظہر عطارد کے صبح کے وقت آسمان میں دکھائی دینے کے دور کے اختتام کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
بالائی اقتران کے چند دن یا ہفتوں بعد عطارد دوبارہ مغربی افق پر غروبِ آفتاب کے بعد نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔فلکیاتی اعتبار سے اقتران کا یہ مرحلہ سیاروں کے مداری حسابات میں ازسرِنو درستگی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور ان کے مداروں کی نگرانی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
شدید جیومیگنیٹک سرگرمی
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زمین آج بدھ کے روز مسلسل تیسرے دن شدید جیومیگنیٹک سرگرمی کی لپیٹ میں ہے، جب 19 جنوری کو سورج سے خارج ہونے والا ایک تیز رفتار شمسی کمیتی اخراج (Coronal Mass Ejection) زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں G4 درجے (انتہائی شدید) کی جیومیگنیٹک طوفانی کیفیت پیدا ہوئی۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق اس کے اثرات اگلے ہی دن کم ہو جانا تھے۔تاہم یہ طوفان ختم ہونے کے بجائے برقرار رہا، کیونکہ زمین اب بھی شمسی کمیتی اخراج کے پچھلے حصے سے گزر رہی ہے، جہاں بلند توانائی رکھنے والے چارج شدہ ذرات موجود ہیں، جو مسلسل زمین کے مقناطیسی میدان کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی باعث G3 درجے (طاقتور) کی مقناطیسی طوفانی کیفیت بدستور جاری ہے، جو اس نوعیت کے واقعات میں غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ اس مسلسل سرگرمی نے غیر معمولی مقامات پر بھی شفقِ قطبی دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اس مظہر کی بنیادی وجہ سورج سے خارج ہونے والے چارج شدہ ذرات کا زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرانا ہے۔ یہ ذرات مقناطیسی خطوط کے ساتھ بہتے ہوئے قطبین کی طرف بڑھتے ہیں اور فضا کے ذرات کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں شفق کے دلکش رنگ پیدا کرتے ہیں۔ عموماً سبز رنگ غالب ہوتا ہے، تاہم توانائی اور شامل ذرات کی نوعیت کے مطابق بعض اوقات سرخ یا بنفشی رنگ بھی دکھائی دیتے ہیں۔
سائنس دان خبردار کرتے ہیں کہ شدید مقناطیسی طوفان مصنوعی سیاروں، نیویگیشن اور مواصلاتی نظاموں کو متاثر کر سکتے ہیں اور اگر سرگرمی کی شدت برقرار رہے تو بجلی کے ترسیلی نیٹ ورکس میں بھی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ مظاہر خلائی سائنس کے شوقین افراد کے لیے ایک نادر قدرتی نظارہ بھی فراہم کرتے ہیں، جو بعض اوقات غیر متوقع علاقوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر ماجد ابو زاہرہ نے واضح کیا کہ اگرچہ شمالی خطوں میں یہ جیومیگنیٹک طوفان خاصا طاقتور ہے، تاہم عرب ممالک پر اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ زیادہ سے زیادہ مصنوعی سیاروں یا نیویگیشن نظاموں میں معمولی تکنیکی خلل آ سکتا ہے، جبکہ روزمرہ زندگی کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔یہ طوفان حالیہ برسوں میں دیکھے جانے والے نمایاں ترین جیومیگنیٹک واقعات میں شمار ہوتا ہے اور اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سورج کس طرح توانائی کی طاقتور لہریں بھیجتا ہے جو براہِ راست زمین کے ساتھ تعامل کرتی ہیں اور ہمیں خلا کی قدرتی خوبصورتی کے شاندار مناظر دکھاتی ہیں۔