ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اگلے ماہ اٹلی میں ہونے والے سرمائی اولمپک گیمز کے لیے امریکہ کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کے ایجنٹ امریکی سکیورٹی کارروائیوں میں مدد کریں گے۔
ایجنسی نے ایک بیان میں کہا، "آئس کی ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز اولمپکس میں امریکی محکمہ خارجہ کی سفارتی سکیورٹی سروس اور میزبان ملک کی مدد کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی مجرمانہ تنظیموں سے خطرات کی جانچ اور انہیں کم کیا جا سکے۔"
نیز کہا، "تمام سکیورٹی آپریشنز اطالوی اتھارٹی کے ماتحت ہی رہیں گے۔ آئس یقیناً بیرونی ممالک میں امیگریشن نافذ کرنے وال کارروائی نہیں کرتا۔"
میلان کے میئر جوسیپ سالا نے منگل کو ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئس ایجنٹس کی آمد پر ہم "خوش نہیں ہیں"۔
"یہ ایک ملیشیا ہے جو لوگوں کو مارتی ہے۔۔ یہ واضح ہے کہ میلان میں ان کا خرمقدم نہیں کیا جائے گا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ کیا ہم اس موقع کے لیے (امریکی صدر ڈونلڈ) ٹرمپ کو انکار نہیں کر سکتے؟" انہوں نے آر ٹی ایل 102.5 ریڈیو کو ایک انٹرویو میں کہا۔
امریکہ کے منیاپولس میں امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران دو شہریوں کی ہلاکت پر غم و غصے کے بعد چھے تا 22 فروری تک منعقدہ کھیلوں میں ایجنٹس کی ممکنہ موجودگی پر اٹلی میں ایک زبردست بحث چِھڑ گئی ہے۔ اطالوی حکام نے ابتداً آئس کو اجازت دینے سے انکار کر دیا اور پھر اس کے کسی بھی کردار کو کم نمایاں کرنے کی کوشش کی جس میں یہ بات شامل تھی کہ وہ صرف امریکی وفد کی سکیورٹی میں مدد کریں گے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سکریٹری خارجہ مارکو روبیو چھے فروری کو میلان میں افتتاحی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔
پیر کے روز اولمپک کے بعض مقابلوں کی میزبانی کرنے والے خطے شمالی لومبارڈی کے صدر نے کہا کہ ان کی شمولیت صرف وینس اور روبیو کی نگرانی تک محدود ہو گی۔
"یہ صرف ایک دفاعی کردار ہو گا لیکن مجھے یقین ہے کہ کچھ نہیں ہو گا،" Attilio Fontana نے صحافیوں کو بتایا۔
تاہم ان کے دفتر نے پھر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی اور وہ صرف ایک فرضی سوال کا جواب دے رہے تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے امریکہ کے مختلف شہروں میں ہزاروں آئس ایجنٹس تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے اقدامات اور طرزِ عمل کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں اور منیاپولس کی سڑکوں پر امریکی شہریوں رینی گُڈ اور ایلکس پریٹی کی حالیہ ہلاکتوں پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان دونوں ہلاک شدگان کی عمر 37 سال تھی۔