منیسوٹا میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد وائٹ ہاؤس میں پیش آنے والے واقعات کے پس پردہ حقائق
وزیر داخلہ کرسٹی نوئم نے غیر علانیہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ صدر اور اسٹیفن ملر کی ہدایات پر عمل کر رہی تھیں
امریکی وزیر داخلہ کرسٹی نوئم کو منیسوٹا میں مظاہرے کے دوران ایک مسلح شخص کی ہلاکت کے حوالے سے گمراہ کن معلومات پھیلانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امیگریشن حکام نے ایک ایسے شخص کو ہلاک کیا جو "قتلِ عام" کا ارادہ رکھتا تھا، تاہم بعد میں سامنے آنے والی وڈیوز نے اس سرکاری موقف کی تردید کر دی۔
اس واقعے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندرونی اختلافات اور افراتفری کو واضح کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام اس غلط بیانی کا ذمے دار کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے محکمے کو ٹھہرا رہے ہیں، جبکہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر اسٹیفن ملر نے حقائق کی جانچ کیے بغیر "قتلِ عام" کی کہانی کو فروغ دیا۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیفن ملر کا اثر و رسوخ وزیر داخلہ کرسٹی نوئم پر بھی حاوی ہے، جنہوں نے اعتراف کیا کہ وہ صدر اور اسٹیفن ملر کی ہدایات پر عمل کر رہی تھیں۔
واقعے کے فوری بعد متعلقہ اہل کاروں نے خاموشی اختیار کر لی اور قانونی مشیروں کی خدمات حاصل کر لیں، جس سے معلومات کا فقدان پیدا ہوا۔ جب عوام کی بنائی ہوئی وڈیوز منظرِ عام پر آئیں، جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ مقتول نے ہتھیار نکالنے کی کوشش نہیں کی تھی، تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز "بارڈر" امور کے ذمے دار ٹوم ہومن کو منیسوٹا بھیجا، جو اسٹیفن ملر کے متشدد طریقوں کے نقاد سمجھے جاتے ہیں۔ اس دوران کرسٹی نوئم نے وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے طویل ملاقات کر کے اپنی وفاداری کا یقین دلایا، تاہم وہ نجی محفلوں میں شکایت کر رہی ہیں کہ انہیں اس بحران میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسٹیفن ملر اور کرسٹی نوئم کے عہدے فی الحال محفوظ ہیں۔