اسرائیل کا جنوبی لبنان میں نامعلوم مواد کا چھڑکاؤ، یونیفل کی مذمت

سفید فاسفورس ہونے کا خدشہ ہے، اسرائیلی کارروائی بین الاقوامی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی: لبنان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی سرحدی علاقے میں کیمیائی مواد کا چھڑکاؤ کیا ہے۔ لبنانی حکام ان نمونوں کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ ان کی نوعیت معلوم کی جا سکے۔ یونیفل نے اسرائیلی سرگرمی کو ناقابل قبول اور قرارداد 1701 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ صبح مطلع کیا تھا کہ وہ بلیو لائن کے قریب غیر زہریلاکیمیائی مواد گرائے گی ۔ صہیونی فوج نے امن دستوں کو چھتوں کے نیچے رہنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے دستوں کو اپنی دس سے زائد سرگرمیاں منسوخ کرنا پڑیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امن دستے نو گھنٹے تک اپنی نارمل سرگرمیاں نہ کر سکے اور بعد میں انہوں نے لبنانی فوج کو نمونے جمع کرنے میں مدد دی تاکہ ان کے زہریلے ہونے کی جانچ کی جا سکے۔ یونیفل نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف امن دستوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ شہریوں کی صحت اور زرعی زمینوں کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر نامعلوم کیمیائی مواد گرایا ہو۔

دوسری جانب لبنانی وزارتِ ماحولیات نے بتایا کہ عیتا الشعب اور نواح سے اسرائیلی طیاروں کے ذریعے سپرے کی اطلاعات ملی ہیں۔ وزیر ماحولیات ڈاکٹر تمارا الزین نے فوج کے سربراہ سے رابطہ کر کے نمونے حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مواد زہریلا ثابت ہوا تو یہ حیران کن نہیں ہوگا کیونکہ اسرائیل پہلے ہی سفید فاسفورس کے استعمال سے لبنان میں 9 ہزار ہیکٹر اراضی جلا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں