لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی سرحدی علاقے میں کیمیائی مواد کا چھڑکاؤ کیا ہے۔ لبنانی حکام ان نمونوں کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ ان کی نوعیت معلوم کی جا سکے۔ یونیفل نے اسرائیلی سرگرمی کو ناقابل قبول اور قرارداد 1701 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ صبح مطلع کیا تھا کہ وہ بلیو لائن کے قریب غیر زہریلاکیمیائی مواد گرائے گی ۔ صہیونی فوج نے امن دستوں کو چھتوں کے نیچے رہنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے دستوں کو اپنی دس سے زائد سرگرمیاں منسوخ کرنا پڑیں۔
طائرة زراعية إسرائيلية ترش مواد سامة على الأراضي في بلدات بالقطاع الغربي من جنوب لبنان pic.twitter.com/zsWf0yT8OH
— Leb Now (@leb_now) February 1, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ امن دستے نو گھنٹے تک اپنی نارمل سرگرمیاں نہ کر سکے اور بعد میں انہوں نے لبنانی فوج کو نمونے جمع کرنے میں مدد دی تاکہ ان کے زہریلے ہونے کی جانچ کی جا سکے۔ یونیفل نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف امن دستوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ شہریوں کی صحت اور زرعی زمینوں کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر نامعلوم کیمیائی مواد گرایا ہو۔
دوسری جانب لبنانی وزارتِ ماحولیات نے بتایا کہ عیتا الشعب اور نواح سے اسرائیلی طیاروں کے ذریعے سپرے کی اطلاعات ملی ہیں۔ وزیر ماحولیات ڈاکٹر تمارا الزین نے فوج کے سربراہ سے رابطہ کر کے نمونے حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مواد زہریلا ثابت ہوا تو یہ حیران کن نہیں ہوگا کیونکہ اسرائیل پہلے ہی سفید فاسفورس کے استعمال سے لبنان میں 9 ہزار ہیکٹر اراضی جلا چکا ہے۔