بھارتی برآمد کنندگان نے منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ-بھارت تجارتی معاہدے کے اعلان اور ملکی اشیا پر محصولات میں کمی کے وعدے کو سراہا ہے جس مہینوں کی غیر یقینی صورتِ حال ختم ہو گئی۔ تاہم تجزیہ کاروں نے معاملات میں وضاحت کی کمی کی بنا پر محتاط رہنے پر زور دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے دوران روسی تیل کی خریداری روکنے کا وعدہ کیا جس کے بعد یہ معاہدہ طے ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ گذشتہ سال عائد کردہ محصولات کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نے توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، کوئلہ اور دیگر شعبوں میں 500 بلین ڈالر سے زیادہ مالیت کا امریکی سامان خریدنے پر اتفاق کیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ بھارت کے روسی تیل کی خریداری پر عائد اضافی 25 فیصد ٹول بھی ہٹا دیا گیا۔
جبکہ واشنگٹن نے گذشتہ سال اپریل میں وسیع پیمانے پر محصولات عائد کرنے کے بعد سے بیشتر حکومتوں کے ساتھ معاہدے کیے تاہم بھارتی حکام کو اس میں جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک معاہدے کی کمی کے باعث سرمایہ کاروں کو گذشتہ سال کے بیشتر حصے کے دوران پریشانی کا سامنا رہا اور وہ بھارتی منڈیوں سے 20 بلین ڈالر سے زیادہ غیر ملکی زرِ مبادلہ نکالنے پر مجبور ہو گئے جس سے روپے کو نقصان پہنچا۔
لیکن پیر کے آخر میں صدر کے اعلان کا بھارتی منڈیوں میں خیرمقدم کیا گیا اور ممبئی کا میعاری نِفٹی انڈیکس دن کے آغاز میں تقریباً پانچ فیصد بڑھ گیا۔
فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (ایف آئی ای او) نے اس معاہدے کو "تمام سودوں کا باپ" قرار دیا اور مزید کہا کہ اب کئی شعبوں میں "آرڈرز میں تیزی سے اضافہ" ہو گا۔
"یہ انتہائی اچھی خبر ہے،" ایف آئی ای او کے ڈائریکٹر جنرل اجے سہائے نے اے ایف پی کو بتایا۔ "بھارتی برآمد کنندگان اب جنوب مشرقی ایشیائی اور جنوبی ایشیائی حریفوں کے مقابلے میں یکساں مسابقت کے حامل ہوں گے۔ اگر آپ خطے میں ہمارے بہت سے حریفوں کو دیکھیں تو یہ زیادہ تر 19 فیصد سے زیادہ ہے۔"
سہائے نے کہا کہ ملبوسات اور جوتوں کے تیار کنندگان فوری اطمینان محسوس کریں گے جنہوں نے اعلیٰ امریکی ڈیوٹی کی وجہ سے آرڈرز میں تاخیر دیکھی ہے۔
"عام طور پر آئندہ (گرمیوں کے) سیزن کے آرڈرز دسمبر تک فائنل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ٹیرف کی وجہ سے بہت زیادہ آرڈرز روک دیے گئے تھے۔ اب یہ دوبارہ بھارت کو ملنا شروع ہو جائیں گے۔"
تفصیل طلب معاملات
سمارٹ فونز اور عام ادویات کو اصل محصولات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا جن کی ترسیل اگرچہ مستحکم رہی لیکن سمندری مصنوعات اور جواہرات و زیورات جیسے محنت طلب شعبوں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔
سی فوڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا کے جی پون کمار نے اندازہ لگایا کہ ٹرمپ کے پہلے والے 50 فیصد ٹیرف کی وجہ سے اپریل اور نومبر کے درمیان امریکہ کو برآمدات کے حجم میں سال بہ سال 15 فیصد کمی واقع ہوئی۔
کمار نے ایک بیان میں کہا، "ہمیں یقین ہے کہ تجارتی معاہدہ طے پا جانے اور ٹیرف 18 فیصد تک کم ہو جانے سے بھارت کی امریکہ کو سمندری غذا کی برآمد کے حجم میں اضافہ ہو گا اور جلد ہی یہ سابقہ سطح پر پہنچ جائے گا۔"
تاہم تجزیہ کاروں نے معاہدے کے متعدد پہلوؤں پر وضاحت کے فقدان کی طرف توجہ دلائی - بشمول ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ بھارت امریکی اشیا پر محصولات کو "صفر" تک لے جانے میں "پیش رفت کرے گا"۔
بھارت کی طرف سے سیاسی حساسیت کے حامل زرعی شعبے کو امریکی رسائی کے لیے کھولنے سے انکار پر مذاکرات بار بار ناکام ہوتے رہے۔
ماہرِ اقتصادیات بسواجیت دھر نے اے ایف پی کو بتایا، "ہمیں اس معاہدے سے فائدہ ہو گا۔ لیکن میں واقعی پریشان ہوں کہ یہ معاملہ بہت تفصیلی ہے اور یہ تفصیلات بہت واضح نہیں ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ شعبہ زراعت نہیں کھولے گی لیکن ٹرمپ کی پوسٹ میں "ابتدائی اشارے ہیں کہ امریکہ کو زراعت تک رسائی مل رہی ہے"۔
دیگر نے ٹرمپ کے ان دعوؤں پر مزید وضاحت طلب کی کہ نئی دہلی امریکی توانائی اور ٹیکنالوجی کی خریداری میں اضافہ کرے گا۔
"خبری سرخیوں میں خریداری میں 500 بلین ڈالر کے اعداد و شمار واضح نہیں ہیں،" دہلی میں قائم تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو کے اجے سریواستو نے ایک نوٹ میں کہا۔
نیز کہا، "بھارت اس وقت امریکہ سے سالانہ 50 بلین ڈالر سے کم درآمد کرتا ہے۔ یہ ایک عزم سے زیادہ ایک خواہش کی طرح لگتا ہے۔ جب تک کوئی مشترکہ بیان، گفت و شنید کا متن اور نفاذ کے بارے میں وضاحت نہ ہو، اسے سیاسی اشارہ سمجھا جائے -- حتمی ڈیل نہیں۔ اس پر جشن کی نہیں، احتیاط کی ضرورت ہے۔"
-
ٹرمپ کا بھارت سے تجارتی معاہدے، روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا اعلان
امریکہ نے بھارتی درآمدات پر ڈیوٹی 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دی
بين الاقوامى -
ہم شراکت دار کے طور پر امریکہ پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
عباس عراقچی کے مطابق ایران اب انتہائی مستعد ہے ... تاہم تیار ہونے کا یہ مطلب نہیں ...
بين الاقوامى -
کشیدگی کے جلو میں ... بحیرہ احمر میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مشقیں
امریکی گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہاز "ڈیلبرٹ ڈی بلیک" نے اس مشق میں شرکت کی، جسے ...
بين الاقوامى