داعش کا خطرہ مزید پیچیدہ اور سنگین ہو گیا:اقوام متحدہ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ سنہ 2025 کے وسط سے داعش کی جانب سے لاحق خطرات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اب یہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زوئیف نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ داعش اور اس سے وابستہ گروپ مغربی افریقہ اور ساحل کے خطے میں اپنی موجودگی کو وسعت دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عراق اور شام میں بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

زوئیف نے کہا کہ افغانستان میں داعش خراسان اب بھی خطے اور اس سے باہر کے علاقوں کے لیے ایک خطرناک ترین خطرہ بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ گذشتہ سال دسمبر میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈائی بیچ پر ہونے والا مسلح حملہ جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے، داعش کے نظریات سے ہی متاثر تھا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ انسداد دہشت گردی کے مسلسل دباؤ کے باوجود یہ تنظیم اور اس کے ذیلی گروہ خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے اور لچک دکھانے کی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

داعش کے طریقہ کار میں تبدیلی

دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹوریٹ کی سربراہ نے داعش کے طریقہ کار میں آنے والی جدید تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ تنظیم اور دیگر گروہوں نے انٹرنیٹ ٹولز، ڈرون سسٹمز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی جدید ایپلی کیشنز کے ساتھ ساتھ کرپٹو کرنسی سمیت ورچوئل اثاثوں کا استعمال وسیع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنانے، انہیں شدت پسندی کی طرف مائل کرنے اور دہشت گردی کے لیے بھرتی کرنے کے لیے تیزی سے کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ اس تنظیم نے نائیجر کے مرکزی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک غیر معمولی حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس سے ساحل کے خطے میں تنظیم کی بڑھتی ہوئی طاقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس واقعے سے چند روز قبل تنظیم نے کابل میں ایک چینی ریسٹورنٹ پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں سات افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

شام اور الہول کیمپ کی صورتحال

شام کے حوالے سے زوئیف نے بتایا کہ 21 جنوری کو الہول کیمپ سے سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے انخلاء کے بعد نئے آپریشنل اور انسانی چیلنجز سامنے آئے ہیں۔

اس کیمپ میں تقریبا 24 ہزار افراد مقیم ہیں جن میں لگ بھگ 15 ہزار شامی اور 42 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والی 6300 غیر ملکی خواتین اور بچے شامل ہیں، جن کے ممالک انہیں واپس لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ قیدیوں کے فرار ہونے کے خدشے کے پیش نظر امریکہ نے ان قیدیوں کو عراق منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں