امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر (علی خامنہ ای) کو "فکر مند ہونا چاہیے"، کیونکہ واشنگٹن اور تہران اس ہفتے جوہری مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بات بدھ کے روز NBC نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اگر تہران نے آمادگی ظاہر کی تو واشنگٹن جمعہ کے روز ایران کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بحث کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت میں بیلسٹک میزائل پروگرام کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ اس کے "با معنی" نتائج برآمد ہو سکیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ ان مذاکرات کے مقام پر ابھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے ایرانی سرکاری میڈیا کی ان رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی جن میں کہا گیا تھا کہ بالواسطہ مذاکرات جمعہ کو سلطنت عمان میں ہوں گے۔
روبیو نے واضح کیا کہ "ہم ایرانیوں کے ساتھ ملاقات کو حکومت (نظام) کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف نہیں سمجھتے"۔
مزید برآں روبیو نے کہا کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کی شدت میں اس وقت شاید کمی آئی ہو، لیکن مستقبل میں ان کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے تخمینے کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد "یقیناً ہزاروں" میں ہے۔
دوسری جانب ایک ایرانی عہدے دار نے "روئٹرز" کو بتایا کہ میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ کے ساتھ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود ہوں گے"۔
ایران نے سفارتی حل تک پہنچنے کی خواہش کی تصدیق کی ہے، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے تک محدود رہنے چاہئیں۔ تہران نے اپنے میزائل پروگرام یا دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات پر اتفاق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ہوا ہے، جبکہ تہران نے بھی کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔