عالمی گیمنگ انڈسٹری کا تخمینہ 323 ارب ڈالر، سعودی عرب میں مستقبل روشن: ماہرین

گیمنگ کا شعبہ فلموں، ٹیلی ویژن، موسیقی اور کھیلوں کے شعبوں سے بھی آگے نکل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب میں ریاض کے مغرب میں واقع قدیہ دنیا کے بڑے گیمنگ شہروں میں سے ایک ہے۔ اس شہر میں گیمنگ اور سپورٹس سیکٹر کے سربراہ مائیک مینوف نے عالمی گیمنگ انڈسٹری کا حجم تقریباً 323 بلین امریکی ڈالر یا ایک ٹریلین سعودی ریال سے زیادہ کا لگایا ہے۔ یہ حجم فلموں، ٹیلی ویژن، موسیقی اور کھیلوں کے شعبوں سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس طرح یہ عالمی سطح پر میڈیا اور تفریح کے سب سے بڑے شعبوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

مائیک مینوف نے مملکت سعودی عرب کو دنیا کا واحد ملک قرار دیا جس کا گیمنگ سیکٹر میں مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے اسے 2035ء تک عالمی مارکیٹ کی شرحِ نمو سے جوڑا اور بتایا کہ یہ حجم تقریباً 623 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ شعبہ سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ترین شعبوں میں سے ایک بن جائے گا۔

ریاض میں ’’ سعودی میڈیا فورم 2026 ‘‘ کی سرگرمیوں کے دوران "گیمنگ کا عالمی دور" کے عنوان سے منعقد سیشن میں مائیک مینوف نے کہا کہ آنے والی نسلیں مختلف سطحوں کے مختلف خیالات کی مالک ہو سکتی ہیں کیونکہ گیمز ڈیجیٹل ترقی کی ایک ایسی قسم ہیں جو انسان کو اپنی ذات سے مربوط کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

قدیہ کمپنی سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ذیلی اداروں میں سے ایک ہے۔ اس کے گیمنگ سیکٹر کے سربراہ نے کہا ہے کہ مملکت کے پاس الیکٹرانک گیمز سے متعلق بہت سی باصلاحیت ٹیمیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی اور عالمی سطح پر تعلقات استوار کرنے میں تخلیقی اور اختراعی توانائی بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔ مائیک مینوف نے کہا کہ قدیہ شہر تقریباً 330 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور 86 فیصد سے زیادہ سعودی خود کو پلیئرز قرار دیتے ہیں، یہ اعداد و شمار عالمی سطح پر گیمنگ اور ای- سپورٹس کی بڑی مارکیٹوں میں سے ایک کے طور پر مملکت کی پوزیشن کو مستحکم کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں ’’ ایکٹیویژن پبلشنگ ‘‘ میں مارکیٹنگ، برانڈنگ اور کریٹیو کی نائب صدر کیرن سٹار نے کہا کہ عالمی گیمز سوشل میڈیا اور سیاسی لحاظ سے سوشل پلیٹ فارمز پر بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ برانڈ سازی کے لیے ایک اچھی چیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیمنگ سیکٹر میں بڑے برانڈز کا تسلسل مسلسل شراکت داری، کمیونٹیز کی تعمیر اور مواد کو مقامی ماحول کے مطابق ڈھالنے پر منحصر ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ عوام کے ساتھ اس کا ثقافتی تعلق برقرار رہے۔ گیمز اب ایک ایسے مستقل میڈیا تجربے میں تبدیل ہو چکی ہیں جو باہمی تعامل اور عوام کے ساتھ تعلق بنانے پر مبنی ہے۔

کیرن سٹار نے گیمز کو ایک ایسی عالمی میڈیا طاقت قرار دیا جو روایتی ذرائع سے آگے نکل چکی ہے اور طویل مدت میں ثقافت، مواد اور عوام کے ساتھ تعامل کے طریقوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ دوسری طرف "ایف ون آرکیڈ سیمولیشن" میں سیلز کی ایگزیکٹو نائب صدر شیلی ولیمز نے کہا کہ گیمنگ کی دنیا میں تجربے کی بنیاد وابستگی اور شراکت داری کے احساس پر مبنی ہے۔ یہ احساس چیز مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر اور طویل میڈیا تجربات پیدا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے درمیان مشترکہ تجربہ نئے نظام کی تعمیر اور مزید گیمز تیار کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ جس کا اثر میڈیا کے شعبے میں مواد کے تسلسل پر پڑے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ گیمز اور میڈیا کا مستقبل اجتماعی تجربات پر مبنی ہے جو تعامل اور وابستگی پر بنتے ہیں۔ ولیمز نے یہ بھی کہا کہ جدید گیمز کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس نسل کو بہت سے ایسے تجربات حاصل ہوں گے جن کا تعلق سماجی پہلو سے ہے اور یہ ان پر مثبت اثر ڈالیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں