مصنوعی ذہانت سے دھوکہ، ہسپتال اور صحرا میں سیف الاسلام کی تصاویر

لیبیا میں اے آئی کی تکنیکوں سے ترمیم شدہ تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیل رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لیبیا میں قذاذفه قبیلے نے مغربی شہر زنتان میں سیف الاسلام قذافی کی رہائش گاہ سے ان کی میت وصول کر لی ہے تاکہ اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انہیں دفن کیا جا سکے تاہم سوشل میڈیا پر سیف الاسلام سے متعلق جعلی تصاویر کی بھرمارہوگئی ہے۔

جعلی اور ترمیم شدہ تصاویر

سوشل میڈیا پر سیف الاسلام کی جعلی تصاویر ایک بار پھر پھیل گئی ہیں جن میں سے ایک میں مرحوم کو ہسپتال کے بستر پر بے ہوش دکھایا گیا ہے اور دوسری میں صحرا میں ان کی لاش دکھائی گئی ہے۔ ’’ العربیہ/ الحدث‘‘ نے ان دونوں تصویروں کی صداقت کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ یہ مصنوعی ذہانت کی تکنیکوں سے ترمیم شدہ ہیں۔ قذافی خاندان کے قریبی ایک ذریعہ نے ’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کو بتایا کہ سیف الاسلام کے قتل کے بعد ان کے بارے میں شائع ہونے والی تمام تصاویر غلط ہیں۔

سيف الإسلام
سيف الإسلام

جعلی تصویر

ذرائع کی یہ بات ایک "مشکوک" تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے سامنے آئی جو گزشتہ گھنٹوں کے دوران پلیٹ فارمز پر پھیلی تھی۔ تصویر کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ لاش کی تصویر ہے۔ متعدد لیبیائی باشندوں نے وہ غلط تصویر شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ایک ٹرک میں سیف الاسلام کی لاش ہے۔ ٹرک کے ساتھ ایک سکیورٹی اہلکار منظر کو فلمانے کے لیے اپنا موبائل اٹھائے ہوئے نظر آیا۔

یہاں تک کہ لیبیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے اعلان کیا کہ تفتیش کاروں اور فرانزک ڈاکٹروں نے کل ان کی لاش کا معائنہ کیا اور وضاحت کی کہ فرانزک ڈاکٹروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان کی موت گولیوں کے زخموں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ پھر پبلک پراسیکیوشن نے تصدیق کی ہے کہ وہ مشتبہ افراد کی شناخت کرنے اور فوجداری مقدمہ دائر کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر کام کر رہی ہے۔

لیبیا کی طاقتور ترین شخصیت

یاد رہے چار نامعلوم مسلح افراد نے لیبیا کے مرحوم کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو منگل کی شام طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں ان کے گھر میں قتل کر دیا تھا۔ سیف الاسلام اپنے والد معمر قذافی کے ممکنہ جانشین ہونے سے بدل کر ایک ایسی شخصیت بن گئے تھے جنہوں نے ایک دور افتادہ پہاڑی قصبے میں حراست اور نظروں سے اوجھل رہ کر تقریباً دس سال گزارے۔ بعد میں انہوں نے صدارت کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کیا تھا ۔ ان کے اس قدم نے انتخابات کرانے کی کوشش میں رکاوٹ ڈالی۔

ایک زمانے میں انہیں اگرچہ وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں تھے، تیل کی دولت سے مالا مال لیبیا میں ان کے والد کے بعد طاقتور ترین شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا جنہوں نے 40 سال سے زیادہ عرصے تک ملک پر حکومت کی۔ خاص طور پر اس لیے کہ انہوں نے پہلے لیبیا کی پالیسیاں وضع کرنے پر کام کیا تھا اور حساس اور انتہائی اہمیت کے حامل سفارتی مشنوں میں ثالثی کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں