اینڈریو کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر شاہ چارلس اور شہزادہ ولیم کی جانب سے خاموشی کا خاتمہ

برطانوی بادشاہ تحقیقات میں مدد کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین اور برطانوی بادشاہ کے بھائی اینڈریو کے تعلقات کے بارے میں نئی دستاویزات کی اشاعت کے آٹھ دن بعد، شاہی خاندان نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ شاہ چارلس سوم اور ان کے بیٹے ولیم نے اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور بادشاہ نے تحقیقات میں مدد کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

شاہی محل کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بادشاہ، جنہوں نے گذشتہ اکتوبر میں اپنے بھائی سے شاہی القابات واپس لینے اور انہیں ونڈسر کی رہائش گاہ چھوڑنے پر مجبور کر کے ایک تاریخی اقدام کیا تھا، انہوں نے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے رویے کے بارے میں سامنے آنے والے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ ان الزامات کا جواب دینے کی ذمہ داری خاص طور پر اینڈریو پر ہے، تاہم شاہی خاندان ٹیمز ویلی پولیس کے ساتھ تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس اعلان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بادشاہ اپنے بھائی اینڈریو پر پولیس کے سامنے گواہی دینے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ پولیس نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ ان معلومات کا جائزہ لے رہی ہے جن کے مطابق اینڈریو نے 2010 میں جب وہ تجارتی مندوب تھے، جیفری ایپسٹین کو حساس رپورٹس فراہم کی تھیں۔ یہ معلومات ان لاکھوں دستاویزات میں شامل نئی ای میلز سے ملی ہیں جو امریکی محکمہ انصاف نے جنوری کے آخر میں شائع کی تھیں۔

شہزادہ ولیم نے بھی پیر کے روز اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑ دی۔ کینسنگٹن پیلس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ اپنے چچا اینڈریو کا نام ایپسٹین کے ساتھ جوڑنے والی دستاویزات پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں، تاہم بیان میں براہ راست اینڈریو کا نام نہیں لیا گیا۔

شاہ چارلس اور ولیم کا یہ ہم آہنگ موقف شاہی ماہرین کے مشوروں کے عین مطابق ہے، جن کا ماننا ہے کہ بادشاہ کو اپنی سلطنت اور شاہی نظام کے مفاد میں اینڈریو سے مزید فاصلہ اختیار کرنا چاہیے اور ایک اخلاقی موقف اپنانا چاہیے۔ بکنگھم پیلس کے بیان میں ہر قسم کے تشدد کا شکار ہونے والے تمام متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں