ہسپانوی عدالت نے بیٹی کو 'موتِ رحم' (Euthanasia) نہ دینے کی والد کی درخواست مسترد کر دی
نصف جسم مفلوج ہونے والی نوجوان خاتون کی موت میں مدد کی درخواست کے خلاف اپیل مسترد کرنے کا حتمی عدالتی فیصلہ
سپین کی آئینی عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے نصف جسمانی فالج کا شکار ایک خاتون کے والد کی جانب سے اس کی زندگی کو ’’ موتِ رحم ‘‘(Euthanasia) کے ذریعے ختم کرنے سے روکنے کے لیے دائر اپیل مسترد کر دی ہے۔ سپین 2021 میں یورپی یونین کا چوتھا ملک بن گیا تھا جس نے ’’ موتِ رحم ذ‘ کو قانونی حیثیت دی اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ان لوگوں کی خودکشی میں مدد کی جو اپنی زندگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 426 افراد نے موت کے لیے مدد حاصل کی۔
عدالتی فیصلوں کے مطابق 25 سالہ خاتون، جو نفسیاتی بیماری کا شکار تھی، نے منشیات کی زیادہ مقدار لے کر کئی بار خودکشی کی کوشش کی تھی۔ اس سے بعد اس نے اکتوبر 2022 میں پانچویں منزل کی کھڑکی سے چھلانگ لگا دی جس کے نتیجے میں وہ مفلوج ہو گئی اور دائمی درد میں مبتلا ہو گئی۔ جولائی 2024 میں کاتالونیا کے علاقے، جہاں وہ رہتی ہے، کے ماہرین کی ایک کمیٹی نے اس کی زندگی ختم کرنے کی درخواست منظور کر لی تھی۔ یہ عمل 2 اگست 2024 کو ہونا تھا لیکن اس کے والد تب سے اسے روک رہے ہیں۔
طبی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مریضہ اپنی چوٹ کے نتیجے میں شدید اور دائمی درد میں مبتلا ہے اور اس کی حالت میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسوسی ایشن ’’ کرسچن لائرز ‘‘کے تعاون سے والد نے کہا کہ ان کی بیٹی کی نفسیاتی بیماری اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں شعوری اور درست فیصلہ کرنے کی اس کی صلاحیت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
کئی نچلی عدالتوں نے خاتون کے کیس کی حمایت کی اور سپین کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت نے جمعہ کو یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گزشتہ جنوری کے آخر میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف والد کی اپیل ناقابل قبول ہے کیونکہ کسی بنیادی حق کی واضح خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ ہسپانوی عدلیہ کی جانب سے جاری کردہ حتمی مسترد فیصلے نے نوجوان خاتون کو ’’ موتِ رحم ‘‘ کے فریم ورک کے اندر موت کے لیے مدد حاصل کرنے کے حق کی تصدیق کی لیکن توقع ہے کہ اس معاملے پر تنازع یورپی اداروں تک پہنچ جائے گا۔
ایسوسی ایشن ’’کرسچن لائرز ‘‘نے والد کی وکالت کی ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئینی عدالت کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کے بعد نوجوان خاتون نوئلیا کا کیس سٹراسبرگ میں انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں لے جائے گی۔ ہسپانوی پارلیمنٹ نے 2021 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ’’ موتِ رحم‘‘ کو جرم کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا جس سے سپین ان چند ممالک میں شامل ہو گیا جو لاعلاج مریض کو ناقابل برداشت تکلیف سے بچنے کے لیے موت میں مدد حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری شرائط اب بھی سخت ہیں کیونکہ درخواست گزار کا درخواست دیتے وقت اہل اور باشعور ہونا ضروری ہے۔ یہ درخواست تحریری طور پر جمع کرنا ہوگی اور بعد میں اس کی دوبارہ تصدیق بھی کرنا ہوگی۔ شرائط کے مطابق اس درخواست کو ایک تشخیصی کمیٹی کی منظوری بھی حاصل ہونی چاہیے۔