جرمن وزیر کا اسرائیل کے ساتھ نسل کشی میں شریک جرم ہونے کے الزام پر فلمی میلے سے 'واک آؤٹ'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جرمنی کے ایک وزیر نے برلن میں سجائے گئے فلمی میلے سے اس وقت 'واک آؤٹ' کردیا، جب فلمی میلے میں انعام کے مستحق قرار پانے والے ڈائریکٹر نے جرمنی کو بھی اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم میں ملوث قرار دے دیا۔

انعام پانے والے فلم ڈائریکٹر نے اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی جرمنی کو دو سال سے زائد عرصہ تک غزہ میں لڑی گئی اسرائیلی جنگ کے ضمن میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں شریک قرار دیا۔

سوشل ڈیموکریٹک وزیر ماحولیات نے ماحول کو اپنے لیے ساز گار نہ پا کر فلمی میلے سے احتجاجا 'واک آؤٹ' کا اعلان کر دیا۔ یاد رہے فلمی میلہ برلن میں جاری ہے۔ وزیر ماحولیات کیرسٹن شنیڈر نے فلمی میلے سے 'واک آؤٹ' ہفتے کی شام کیا اور کہا جرمنی کو فلسطینیوں کی نسل کشی میں شریک قرار دینے کے الزامات قابل قبول نہیں ہیں۔

انہوں نے یہ احتجاجی قدم اس وقت اٹھایا جب شامی فلسطینی فلم ڈائریکٹر عبداللہ الخطیب نے انعام کے اعلان کے بعد یہ بات کہی۔ انہیں بہترین فلم پروڈکشن کا ایوارڈ اسی اسرائیلی محاصرے کے موضوع پر بنائی گئی فیچر فلم پر دیا گیا ہے۔

عبداللہ الخطیب نے کہا جرمنی بھی اسرائیل کے ساتھ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں شریک رہا ہے۔ لیکن میں توقع رکھتا ہوں کہ ایک ذہین شخص ہونے کے ناطے آپ یہ بات تسلیم کر لیں گے۔ مگر جرمن وزیر نے فلمی میلے کا 'واک آؤٹ' کر کے وہاں سے کھسکنےکو ترجیح دی۔

'اے ایف پی' کے مطابق وزیر ماحولیات جرمن حکومت کے واحد وزیر تھے جو اس فلمی میلے میں آئے تھے۔ جبکہ جرمنی کے وزیر ثقافت میلے میں شریک ہی نہیں ہوئے۔ 'اے ایف پی' کے مطابق ابھی نہیں معلوم ہو سکا کہ وزیر ثقافت نے میلے میں شرکت سے کیوں گریز کیا۔ اس بارے میں جرمن وزارت ثقافت نے بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

تاہم جرمن چانسلر کے اتحادی الیگزینڈر ہوفمان نے فلمی میلے میں جرمنی کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیے جانے والے ریمارکس کو یہود دشمنی کا نام دیا۔ الیگزینڈر ہوفمان کرسچیئن سوشل یونین کے سربراہ ہیں۔

برلن کے میئر کائے وہگنر نے ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب کہنا اسرائیل کے ساتھ کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔ نیز یہ فلمی میلے کے منتظمین کی سوچ کا کھلا تضاد ہے۔

یہ اہم بات ہے کہ فلمی میلے میں شرکت کرنے والی 80 سے زائد فلمی شخصیات نے جرمنی کی غزہ میں کی گئی نسل کشی پر خاموشی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں