ملائیشیا:وزارت عظمیٰ کے عہدے پردومدتوں سے زیادہ فائزرہنے پرپابندی کاقانون منظوری کےلیے پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ملائیشیا میں پیر کے روز ایک ایسی قانون سازی کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت وزیر اعظم دو مدتوں سے زیادہ وزارت عظمیٰ پر فائز نہیں ہو سکے گا۔

یہ مسودہ قانون ملک میں احتسابی عمل کو بہتر کرنے اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے اختیارات کے دائرے کو محدود کرنے کی خاطر متعارف کرایا گیا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیائی ملک ملائیشیا میں ابھی تک وزیر اعظم کے بار بار منتخب ہونے پر کوئی قدغن موجود نہیں ہے۔ اس وجہ سے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد 26 سال تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ وہ 1981 سے 2003 کے درمیان اور 2018 سے 2020 کے دوران وزارت عظمیٰ پر فائز رہے۔

موجودہ وزیر اعظم انور ابراہیم نے ماہ جنوری میں یہ اعلان کیا تھا کہ ملک میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونا صرف دو مدتوں تک محدود کر دیا جائے گا۔ تاکہ ملک میں اختیارات کے غلط استعمال کے احتساب کا موقع بھی رہے اور کرپشن کی روک تھام کا بھی اہتمام ہو سکے۔

انور ابراہیم نے اپنی جماعت کے انتخابی منشور میں بھی عوام سے یہ وعدہ کیا تھا۔ تاہم اب بھی یہ احساس پایا جاتا ہے کہ انہوں نے منشور کی اس شق پر عمل کرنے کے لیے سست روی سے کام لیا ہے۔

یاد رہے ملائیشیا میں عام انتخابات اگلے سال متوقع ہیں۔

انور ابراہیم نے کہا اگر یہ قانون منظور کر لیا جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس قانون کی زد میں آئیں گے اور وہ اس پر پورا عمل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 سال کے لیے کسی شخص کا وزیر اعظم رہنا ایک کافی مدت ہے کہ وہ قوم کی خدمت کر سکے اور اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کرتا رہے۔

انور ابراہیم نے کہا ان کا یہ قانون بنانے کا مقصد کسی اور شخصیت یا سیاستدان کا راستہ روکنا نہیں ہے بلکہ اس قانون کا سب سے پہلا اطلاق خود ان پر ہوگا۔

اس قانون کی منظوری کے لیے ملائیشین پارلیمان کے 222 ووٹوں میں سے 148 ووٹوں کی ضرورت ہوگی جو دو تہائی ووٹ کہلاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں