بادشاہوں اور امراء کی مٹھائی: کنافے کی کہانی اور اس کی تاریخ سے واقفیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

کنافہ رمضان المبارک کی سب سے نمایاں مٹھائیوں میں سے ایک ہے اور ماہِ مقدس کے تجربے کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔مصر کے لوگوں نے اس میں اپنا خاص انداز شامل کیا، مختلف اقسام ایجاد کیں، جیسے کنافہ، بلدی یعنی مقامی انداز کی کنافہ ،بورمہ یعنی لپٹی ہوئی کنافہ ، اسے کریم یاملائی سے بھر کر پیش کیا۔

کنافہ کا نام

کنافہ کے نام کے اصل بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، تاہم عام خیال یہی ہے کہ یہ لفظ عربی زبان کے ''کنَّافَۃ'' سے نکلا ہے، جو کسی قسم کے بنے ہوئے بال یا دھاگے کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ نام شاید اس کے بنانے کے انداز سے جڑا ہو، کیونکہ آٹے کو اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ بنے ہوئے دھاگے کی طرح نظر آئےیا اس کے ظاہری شکل کی وجہ سے جو بال کی مانند دکھتی ہے۔

ایک اور رائے کے مطابق مصر کے ماہرِ عوامی مطالعات اور انسانیات ڈاکٹر مسعود شومان کا خیال ہے کہ کنافہ کا اصل لفظ ''کنفۃ'' ہے، جس کےاردو معنی ہیں ''شامل کرنا'' جیسا کہ انہوں نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں بیان کیا۔کنافہ اپنی میٹھی اور خستہ ساخت کی وجہ سے مشہور ہے اور اسے عرب دنیا کی سب سے معروف مٹھائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

کنافہ
کنافہ

کنافہ کا پہلا ظہور

متعدد روایات کے مطابق کنافہ سب سے پہلے دورِ امویہ میں مشہور ہوئی اور یہ خاص طور پر پہلے اموی خلیفہ معاویہ بن ابی سفیان کے لیے بنائی گئی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ یہ دمشق میں ان کی حکومت کے دوران سحری کے کھانے کے طور پر پیش کی گئی، جس سے یہ ماہِ رمضان کے دسترخوان کا حصہ بن گئی۔

اس کا مطلب ہے کہ کنافہ کا آغاز شام کے علاقوں میں ہوا۔ اگرچہ معاویہ بن ابو سفیان سے متعلق کہانی کی تصدیق مشکل ہے، لیکن اس کے نام کے ساتھ تعلق قائم رہا اور اسے بعد میں ''کنافہ معاویہ'' کے نام سے بھی جانا گیا۔

مصر کے مرکز برائے عوامی روایات کی محققہ ڈاکٹر شیماء الصیّدی کے مطابق شام کے مٹھائی سازوں نے کنافہ اور قطائف ایجاد کی اور یہ خاص طور پر معاویہ کے لیے پیش کی گئی، جب وہ شام کے گورنر تھے۔

کہا جاتا ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان روزہ رکھتے ہوئے شدید بھوک محسوس کرتے تھے، جس پر انہوں نے اپنے معالج سے شکایت کی۔ معالج نے ان کے لیے کنافہ تجویز کی تاکہ سحری میں کھانے سے دن بھر کی بھوک کم ہو سکے۔

اسی روایت کے مطابق قدیم دور میں کنافہ کو بادشاہوں اور امراء کے دسترخوان کی زینت کے طور پر جانا جاتا تھا، کیونکہ یہ خصوصی طور پر معاویہ بن ابی سفیان کے لیے تیار کی گئی تھی۔

ایک اور مشہور قصہ یہ بھی سنایا جاتا ہے کہ محل کے ایک شیف نے مائع آٹے کی ایک پرچی تیار کی، جس کا ایک چمچ گرنے پر باریک دھاگوں کی شکل اختیار کر گیا۔ شیف نے اسے گھی میں تل کر سنہری کر دیا اور اس پر شہد ڈال کر خلیفہ کے سامنے پیش کیا، جسے معاویہ بن ابی سفیان نے بہت پسند کیا۔

کنافہ اور قطائف میں لطائف کا سرچشمہ

مصری عالم جلال الدین السیوطی (1445,1505م) نے "کنافہ اور قطائف میں لطائف کا سرچشمہ" کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی، جو اس بات کی گواہی ہے کہ کنافہ اور قطائف ان دور کے مشہور حلویات میں شامل تھیں اور رمضان کے مہینے سے ان کا گہرا تعلق تھا۔

اسی کتاب میں السیوطی نے ابن فضل اللہ العمری کی روایت نقل کی ہے، جس میں کہا گیا:معاویہ بن ابی سفیان رمضان میں شدید بھوک محسوس کرتے تھے، جس پر انہوں نے محمد بن آثال اپنے معالج سے شکایت کی۔ معالج نے ان کے لیے کنافہ تیار کی اور وہ سحری میں اسے کھاتے تھے، یہی کنافہ استعمال کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔یہ روایت کنافہ کے تاریخی آغاز اور اس کے شاہی دسترخوان میں شامل ہونے کی داستان کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

مصری کنافہ

تاہم کچھ دیگر روایات کے مطابق مصریوں نے کنافہ شام سے پہلے دیکھی اور استعمال کی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پہلی بار فاطمی دور میں منظرِ عام پر آئی، خاص طور پر جب خلیفہ المعز لدین اللہ الفاطمی رمضان کے مہینے میں قاہرہ داخل ہوئے۔

افطار کے بعد قاہرہ کے لوگ انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے باہر نکلے اور تحائف پیش کیے، جن میں کنافہ بھی شامل تھی۔ یہ تجارتی راستوں کے ذریعے شام تک پہنچ گئی اور مختلف تاریخی دور میں رمضان کے تہوار کی ایک روایت بن گئی۔

تاہم اس روایت پر بعض علماء اور مورخین نے شک ظاہر کیا ہے۔ کچھ دیگر روایات کے مطابق کنافہ کی اصل ترکی یا شراکسی ہے، جہاں کہا جاتا ہے کہ اس کا نام شراکسی زبان سے ماخوذ ہے۔ شراکسی میں اسے "چنّافہ" کہا جاتا ہے، جس میں "چنا" کا مطلب ہے بلبل ۔اور "فہ" کا مطلب ہے رنگ، یعنی اس کا مطلب ہے "بلبل کا رنگ"۔

قصر المنیل میوزیم کی رپور ٹ

سال 2024 میں قصر المنیل میوزیم نے کنافہ کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی، جو رمضان کی اہم مٹھائیوں میں سے ایک ہے اور اس میں مصر میں اس کے داخلے کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کنافہ ایک مشرقی مٹھائی ہے ،جس کی تاریخ بہت پرانی ہے اور یہ خاص طور پر امراء اور بادشاہوں کے لیے تیار کی جاتی تھی۔

رپورٹ میں مزید وضاحت کی گئی کہ کنافہ کی ابتدا شاید دورِ امویہ میں ہوئی اور ممکن ہے کہ اس سے بھی قبل کی ہو، جبکہ اس کے آغاز کے بارے میں کئی روایات موجود ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ شام کے مٹھائی سازوں نے سب سے پہلے کنافہ ایجاد کی اور اموی خلفاء کے لیے پیش کی۔رپورٹ میں مصر میں کنافہ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ یہ رمضان کے دوران ایوبی، مملوکی، ترک اور جدید دور میں ایک عام روایتی مٹھائی بن گئی، جسے ہر طبقے کے لوگ کھاتے تھے، جس کی وجہ سے اسے عوامی پسندیدہ اور مقبول مٹھائی کا درجہ حاصل ہوا۔

کنافہ بنانے کے طریقے

مختلف ممالک میںکنافہ بنانے کے طریقے ہر ملک میں مختلف ہیں۔ مصر میں اس کی تیاری میں خاص مہارت اور جدت دیکھی جاتی ہے، جبکہ شام کے لوگ کنافہ کو ملائی سے بھر کر پیش کرتے ہیں۔ مکہ مکرمہ کے لوگ اسے نمک کے بغیر پنیر سے تیار کرتے ہیں، جو ان کی پسندیدہ قسم ہے۔

نابلس کے لوگ بھی پنیر والی کنافہ میں ماہر ہیں، جس کی وجہ سے یہ بعد میں "کنافہ نابلسیہ" کے نام سے مشہور ہوئی۔
شام کے ممالک خاص طور پر مختلف قسم کی کنافہ بنانے میں مشہور ہیں، جیسے مبرومہ،( لپٹی ہوئی کنافہ) بللوريہ،( کرسٹل نما کنافہ) عثمانلیہ (عثمانی طرز کی کنافہ)اور مفروکہ( کھچکی ہوئی کنافہ)۔

اگرچہ کنافہ کے اصل آغاز اور تاریخ کے بارے میں روایات مختلف ہیں، لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ رمضان کی سب سے پسندیدہ اور لذیذ مٹھائیوں میں سے ایک ہے اور کوئی بھی عربی یا مصری دسترخوان اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں