ایران ایسے ہتھیار رکھتا ہے جو امریکہ پر حملے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں : مارکو روبیو
یہ موقف جنیوا میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کے نئے دور سے ایک روز پہلے سامنے آیا ہے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے پاس ایسے روایتی ہتھیار موجود ہیں جو امریکہ پر حملے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کے بارے میں مذاکرات کرنا ہوں گے۔ یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جنیوا میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے نئے دور سے ایک روز پہلے روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بیلسٹک میزائلوں پر بات نہ کرنے کا ایرانی اصرار ایک بہت بڑا مسئلہ ہے"۔
تاہم، روبیو نے اس بات کی وضاحت سے گریز کیا کہ آیا جنیوا مذاکرات امریکہ کے لیے ایران پر حملہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے کوئی اہم موڑ ثابت ہوں گے یا نہیں۔
کیریبین کے چھوٹے ملک سینٹ کٹس اینڈ نیوس کے دورے کے دوران روبیو نے زور دے کر کہا کہ "صدر سفارتی حل چاہتے ہیں۔ وہ اسے ترجیح دیتے ہیں، بلکہ بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں"۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنیوا مذاکرات "بارآور" ثابت ہوں گے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ "لیکن آخر کار، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہمیں صرف ایٹمی پروگرام سے بڑھ کر دیگر مسائل پر بھی بات کرنا ہوگی"۔
ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ "صدر نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، اس لیے میں نہیں جانتا کہ جمعرات کا دن اس حوالے سے کوئی کلیدی وقت ہے یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ پیش رفت ہونی چاہیے"۔
اسی تناظر میں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کو کہا کہ امریکہ کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ ایران جون میں ایرانی ایٹمی مقامات پر امریکہ کے زیر قیادت ہونے والے حملوں کے بعد اپنے ایٹمی پروگرام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "اصول بہت سادہ ہے ... ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا"۔
امریکہ نے بدھ کے روز جنیوا میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے نئے دور سے قبل "انتہائی دباؤ" کی مہم کو جاری رکھتے ہوئے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے عائد کی گئی تازہ ترین پابندیوں میں 30 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو ہدف بنایا گیا ہے جو "غیر قانونی ایرانی تیل کی فروخت" اور اسلحے کی تیاری میں سہولت کاری فراہم کرتے ہیں۔
محکمہ خزانہ نے کہا کہ وہ ان جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو "ایران کے شیڈو فلیٹ (خفیہ بیڑے) کے تحت کام کرتے ہیں اور ایرانی تیل و مصنوعات کو غیر ملکی منڈیوں تک منتقل کرتے ہیں" تاکہ حکام کی آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنایا جا سکے۔