چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی وزیر خارجہ سے بات کرتے ہوئے ایران کے حق دفاع کی مکمل حمایت کی ہے۔ ان کا یہ فون پر رابطہ پیر کے روز ہوا تاکہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حملے سے مشرق وسطیٰ میں پیدا شدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرسکیں۔
ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ اس جنگ میں اب تک سینکڑوں ایرانی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ، وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب کور کے سربراہ بھی شامل ہیں۔
امریکہ اور نے ایران پر یہ حملہ ہفتے کی صبح شروع کیا۔ اس سے قبل ماہ جون میں بھی دونوں ملک ایران کو جنگی یلغار کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
ہفتے کے روز سے شروع کی گئی جنگ کے دوران ایران نے بھی اپنے میزائل حملوں سے امریکی فوجی اڈوں، قبرص میں برطانوی ایئر بیس کے علاوہ اسرائیل کے اندر جگہ جگہ میزائل داغے ہیں نیز خطے میں مختلف عرب ملکوں میں بھی امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے فون کال پر اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیاں گہری دوستی ہے اور چین ایران کے حق خودمختاری اور اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
چین ایران کے قومی وقار اور اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے موقف کا بھی حامی ہے۔ چینی وزیر خارجہ کی یہ گفتکو سی سی ٹی وی نے رپورٹ کی ہے۔
وزیر خارجہ چین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ کو فوری روکیں اور علاقے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں کیونکہ صورتحال تشویشناک ہے اور جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلتی نظر آرہی ہے۔
چین کے وزیر خارجہ نے اومانی وزیر خارجہ سے بھی الگ سے فون پر گفتگو کی اور واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل بین الاقوامی اصولوں ، یو این چارٹر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں یہ جان بوجھ کر اور بلا جواز ایران کے خلاف برسر جنگ ہیں۔
وانگ یی نے اومانی ہم منصب بدر ابوسعیدی سے کہا کہ چین جنگ رکوانے کے لیے انصاف اور امن کی بالادستی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اور یہ کردار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے ادا کیا جاسکتا ہے۔
وانگ یی نے علاوہ ازیں فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل بیرٹ سے بات کی اور کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملے کی وجہ سے پورا خطہ جنگل کے قانون کا منظر پیش کر رہا ہے جو قابل مذمت ہے۔ امریکہ کے اس حملے سے دنیا خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ انہوں ںے مزید کہا کہ بڑی طاقتیں اپنی فوجی برتری کی وجہ سے دوسرے ملکوں پر من مانے حملے نہیں کرسکتیں۔ ان کا کہنا تھا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملے کو سیاسی اور سفارتی ذریعے سے ہی حل کیے جانے کے جے راستے پر واپس آنا چاہیے۔
خیال رہے کہ امریکہ جس کے اب تک چار فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایک واقعے میں امریکہ کے تین جنگی جہاز مبینہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گئے ہیں۔ مگر صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کئی ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔
-
ایرانی ڈرونز فضا میں تباہ ، ٹکڑے گرنے کے باعث راس تنورہ ریفائنری میں معمولی آگ
تیل کی تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے دو ڈرونز کو تباہ کرنے کی تصدیق
مشرق وسطی -
ایران اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے:امریکی وزیر دفاع کا پہلا بیان
ایران پر حملے کا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں تھا مگر نظام خود ہی بدل چکا ہے
بين الاقوامى -
ایران لمبی جنگ کے لیے تیار ہے، لاریجانی کا اعلان
ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے پیر کے روز اپنے ایک باقاعدہ اعلان میں کہا ہے ...
مشرق وسطی