جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے ... چین ثالثی کے لیے خواہاں
چین نے ریاض کی جانب سے دکھائے گئے ضبطِ نفس اور اختلافات کو پُر امن طریقے سے حل کرنے کے اصرار کو سراہا ہے
چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا ایک خصوصی نمائندہ مشرق وسطیٰ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کا مقصد ثالثی کے ذریعے ایک طرف اسرائیل اور امریکہ اور دوسری طرف ایران کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے، جو اب اپنے چھٹے دن میں داخل ہو چکی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے آج جمعرات کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں کو مطلع کیا ہے کہ بیجنگ ثالثی کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایک خصوصی نمائندہ بھیجے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا پھیلاؤ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
وزارت نے وانگ یی کے حوالے سے مزید بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ چین ریاض کی جانب سے دکھائے گئے ضبطِ نفس اور پرُ امن ذرائع سے اختلافات حل کرنے کے اصرار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے بحری جہاز رانی کی گزرگاہوں کی سلامتی کے تحفظ کی بھی اپیل کی۔
لحظة إطلاق صواريخ إيرانية باتجاه إسرائيل
— العربية (@AlArabiya) March 5, 2026
قناة العربية pic.twitter.com/6rMHXGAtTL
چینی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ میں چین اور روس "مؤثر عوامل" نہیں ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں ایران کے اتحادیوں خصوصاً روس اور چین کے لیے پیغام سے متعلق سوال پر زیر دفاع نے جواب دیا کہ ان کے پاس ان دونوں ممالک کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا "وہ یہاں کوئی مؤثر عنصر نہیں ہیں، ہمارا مسئلہ ان کے ساتھ نہیں بلکہ ایران کے ایٹمی عزائم کے ساتھ ہے"۔
دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی نے بدھ کو یہ رائے دی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی "اکساہٹ" کے نتیجے میں اپنے ملک کے عوام کو ایران کے ساتھ ایک "نا انصافی پر مبنی جنگ" میں دھکیل دیا ہے۔ یہ بیان محمد مخبر (مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر) کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
مراسلة العربية: رصد إطلاق صواريخ إيرانية باتجاه وسط إسرائيل
— العربية (@AlArabiya) March 5, 2026
قناة العربية pic.twitter.com/g3FUHkVpBJ
امریکی ویب سائٹ "axios" کے مطابق ایک امریکی اہل کار نے بتایا کہ ایرانیوں نے حالیہ دنوں میں امریکہ کو پیغامات بھیجے ہیں لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ اسی ویب سائٹ نے دو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس ہفتے کے شروع میں وائٹ ہاؤس سے اس وقت وضاحت طلب کی تھی جب انہیں معلوم ہوا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام شاید ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ رابطہ اس خدشے کو ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی حکومت اس منظر نامے سے پریشان ہے جس میں امریکہ اسرائیل کے تمام اہداف حاصل ہونے سے پہلے ہی جنگ بندی کی کوشش کرے۔
واضح رہے کہ ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ چھٹے دن میں داخل ہو چکی ہے اور فی الحال کسی قریبی حل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔