سعودی ولی عہد کا ترک، برطانوی اور قبرصی رہنماؤں سے شرقِ اوسط کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جیسا کہ شرقِ اوسط ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی بے مثال لہر سے دوچار ہے تو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جنگ روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہفتے کے روز اعلیٰ سطحی ٹیلی فون کالز کا سلسلہ برقرار رکھا جس میں عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے گئے۔

ایس پی اے نے الگ الگ اطلاعات میں کہا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن، برطانوی وزیرِ اعظم کیر سٹارمر اور قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈز سے گفتگو میں ولی عہد نے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کو مملکت کی طرف سے مسترد کرنے پر زور دیا۔

یہ سفارتی میراتھون ایسے وقت ہو رہی ہے جبکہ "امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ" کو ایک ہفتہ گذر چکا ہے اور یہ بنیادی طور پر جغرافیائی سیاسی منظرنامہ تبدیل کر رہی ہے۔

صدر ایردوآن سے ملاقات کے دوران ولی عہد نے ترک سرزمین کو نشانہ بنانے والے حالیہ ایرانی حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے "ترکی کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے گئے تمام اقدامات" پر سعودی عرب کی مکمل حمایت کی تصدیق کی۔

ترکی نے حال ہی میں اطلاع دی ہے کہ نیٹو کے فضائی دفاع نے مشرقی بحیرۂ روم پر ایک ایرانی بیلسٹک میزائل روکا جس سے تنازع میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔

اسی طرح کیئر سٹارمر نے سعودی عرب کے لیے برطانیہ کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سعودی سرزمین پر "اندھا دھند اور غیر ذمہ دارانہ" ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو ریاض اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کر رہا ہے۔

ابتدائی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایران نے ایک "خوفناک" جوابی کارروائی شروع کی ہے جس میں تاریخ میں پہلی بار خلیج تعاون کونسل کی تمام ریاستوں (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان) کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حملوں میں خاص طور پر تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جن میں ہفتہ کے روز صبح میں الشیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملہ اور قطری ایل این جی تنصیبات پر کامیاب حملہ شامل ہیں۔ اس سے دنیا کی ایل این جی کی 20 فیصد صلاحیت مختصراً موقوف ہو گئی ہے۔

اگرچہ پیٹریاٹ اور تھاڈ بیٹریز کے ذریعے کئی پراجیکٹائل روکے گئے ہیں لیکن ملبہ گرنے اور براہِ راست شہری مراکز سے ٹکرانے سے پورے خلیج میں نمایاں جانی نقصان ہوا ہے۔

جاری کشیدگی نے ممالک کو خطے میں تیزی سے از سرِ نو ترتیب پر مجبور کر دیا ہے۔ جیسا کہ ولی عہد نے قبرصی صدر کے ساتھ اپنی کال میں نوٹ کیا، اس فوجی کشیدگی کے اثرات اب نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں