پوتین من ہی من میں مسکرا رہے ہیں ... ایران کے خلاف جنگ سے فائدہ اٹھانے والی اولین شخصیت
ایسا لگتا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں امریکی انتظامیہ کے تازہ ترین فیصلے سے روسی صدر ولادی میر پوتین اولین فائدہ اٹھانے والے ہوں گے۔
امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر روسی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کے لیے اضافی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ وہ ایک لائسنس جاری کر رہی ہے جس کے تحت اگلے ایک ماہ کے دوران پابندیوں کا شکار روسی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی کچھ ترسیلات کی فروخت اور فراہمی کی اجازت ہوگی۔
یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے بھارت کو روسی تیل خریدنے کی عارضی اجازت دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی وزارت توانائی کے اس اعلان کے بعد بھی آیا ہے کہ وہ اس تنازع کی وجہ سے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کی کوشش میں تزویراتی ذخائر سے 17.2 کروڑ بیرل تیل جاری کرے گی۔
تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ روسی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ان ترسیلات کی فروخت اور ان لوڈنگ" کی اجازت دیتا ہے جو 12 مارچ 2026 سے پہلے جہازوں پر لادی جا چکی تھیں۔ یہ اجازت 11 اپریل تک یعنی تقریباً ایک ماہ کے لیے برقرار رہے گی۔
اس فیصلے سے ان ترسیلات کی فروخت کی اجازت مل جائے گی جو امریکی پابندیوں کی زد میں تھیں اور جنہیں مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر "شیڈو فلیٹس" (خفیہ بیڑوں) کے ذریعے فروخت کیا جا رہا تھا۔ اب یہ شپمنٹس بہت زیادہ قیمتوں پر فروخت ہو سکیں گی۔ خاص طور پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث۔
واضح رہے کہ یوکرین پر حملے کی وجہ سے پابندیوں کے باوجود روسی تیل اب بھی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے، جو ماسکو کے لیے اضافی مالی منفعت کا باعث بنے گا۔
تاہم روس کے لیے یہ ریلیف عارضی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ لائسنس میں صرف ان ترسیلات کا ذکر ہے جو 12 مارچ سے پہلے لدی گئی تھیں اور نئی شپمنٹس کی بات نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ اس کی مدت صرف ایک ماہ مقرر کی گئی ہے۔
لہٰذا یہ فیصلہ روسیوں کے لیے ایک طرح کا چھوٹا سا "تحفہ" ہے اور یہ روس پر عائد پابندیوں کو حتمی طور پر ختم نہیں کرتا، اگرچہ یہ اس کی معیشت کو ایک ماہ کے لیے سانس لینے کا موقع ضرور فراہم کرتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس عارضی لائسنس کو جنگ کی وجہ سے غیر مستحکم ہونے والی عالمی توانائی کی منڈیوں کو پر سکون کرنے کا ایک اقدام قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ہائی ٹونگ فیوچر کے تجزیہ کار یانگ این کا خیال ہے کہ "لائسنس کے اجراء نے مارکیٹ کے خدشات کو تو کم کیا ہے، لیکن یہ بنیادی مسئلہ حل نہیں کرے گا"۔ روئٹرز کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "سب سے اہم معاملہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی ہے"۔
روس نے امریکی فیصلے پر اپنے پہلے رد عمل میں کریملن کے اقتصادی مشیر کیرل دیمیتریوف کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی روسی تیل کے بغیر "مستحکم نہیں رہ سکتی"۔ دیمیتریوف نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ "امریکہ حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے ... روسی تیل کے بغیر عالمی توانائی کی منڈی مستحکم نہیں رہ سکتی"۔
یاد رہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے گذشتہ روز (جمعرات کو) اپنے پہلے پیغام میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک لڑائی جاری رکھے گا اور امریکہ و اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند رکھے گا۔