غزہ : اسرائیلی بمباری سے فلسطینی پناہ گزینوں کے خیمے کو آگ لگ گئی ،1 جاں بحق 7 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی جنگی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں فلسطینیوں کے ایک پناہ گزین کیمپ پر حملہ کیا۔

اس حملے سے پناہ گزینوں کے خیمے کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کم از کم ایک فلسطینی جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے۔ یہ فلسطینی اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے دنوں میں بد ترین بمباری کے دوران بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے اور اب خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اسرائیلی فوج ان خیموں کو بھی گاہے گاہے اپنے حملوں کا نشانہ بناتی رہتی ہے۔ غزہ کے شہری دفاع کے شعبے نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیل نے حماس کے ساتھ ایک جنگ بندی کا معاہدہ دس اکتوبر 2025 کو کیا تھا مگر اس کے بعد بھی اسرائیلی فوج مسلسل فلسطینیوں کو تباہ شدہ غزہ میں نشانہ بناتی رہتی ہے۔ بدھ کے روز یہ تازہ حملہ دیر البلاح کے علاقے میں لگے ایک خیمے پر کیا گیا ۔

اس حملے میں امکانی طور پر آگ بھڑکانے والے گولے استعمال کیے گئے۔مغربی خبر رساں ادارے کے کیمرہ مین نے اس واقعے کے بعد ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں خیمے کو لگی آگ کے شعلے دیکھے جا سکتے ہیں۔ جبکہ آسمان کی طرف سیاہ دھواں بلند ہو رہا ہے۔

غزہ کے الاقصیٰ ہسپتال نے آگ سے جھلسنے والے زخمی فلسطینیوں میں سے ایک شہری کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے روایتی جواب میں میڈیا سے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کو دیکھ رہی ہے۔

خیمے میں رہائش رکھنے والی 57 سالہ سہیلہ خلیل کے مطابق انہیں ایسے لگا جیسے خیمے کو حملے کا نشان بنایا گیا ہےکہ اچانک شور دار دھماکہ ہوا۔ لیکن یہ دھماکہ ہمارے کیمپ سے تقریبا ایک سو میٹر دور تھا۔ مگر ہر طرف آسمان سے دھویں کے سیاہ بادل اترنے لگے اور سات افراد زخمی ہو گئے۔

یاد رہے دس اکتوبر 2025 کے بعد سے اب تک اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 689 فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے بمباری اور گولہ باری کر کے شہید کر دیا ہے۔ جبکہ زخمی کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ تاہم میڈیا کو غزہ میں داخلے کی اجازت انتہائی محدود ہونے کی وجہ سے اسرائیلی حملوں کی کوریج ممکن نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں