ایران : پاکستان کے 20 سے زائد تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے پاکستان کے 20 سے زائد جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ اقدام خطے میں استحکام لانے اور کشیدگی سے خطے کو نجات دلانے میں مدد دے گا۔

ایران نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ایران کا یہ اعلان اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ ایران مخالف جنگ کے دوران ایرانی آئل تنصیبات پر حملوں کے ردعمل میں بروئے کار ہے۔آبنائے ہرمز سے دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ جبکہ ایل این جی کا بھی ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ کی مرہون منت ہے ۔اسی آبنائے ہرمز سے کھادوں کی ترسیل دنیا کے کئی ملکوں کو کی جاتی ہے مگر جب سے ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنے دشمن ملکوں کے لیے بند کیا ہے اس سے تیل کی ترسیل بہت کم ہوکر رہ گئی ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر لکھا کہ میں یہ بات خوشی سے شیئر کر رہا ہوں کہ ایرانی حکومت نے تیل لانے والے پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مثبت اعلان ہے جو امن کوششوں کے سلسلے میں ایک بامعنی اور مضبوط اقدام ہے جو ہماری درست سمت میں ہونے والی کوششوں کو تقویت دیتا ہے۔اسحاق ڈار نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیےسفارتی کوششوں اور بات چیت کی ضرورت ہے ہے۔

یاد رہے پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ خطے میں کشیدگی پرامن طریقے سے ختم کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں۔ پاکستان ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالث کے طورپر کردار ادا کر رہاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں