حکومت پاکستان نے جنگ زدہ ایران کے لیے برآمدی قوانین کو نرم کر دیا ہے تاکہ خوراک، خیمے، ادویات اور دوسری اشیاء کی ایران کے لیے برآمد کو آسان کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں برآمد کنندگان کو ان ادائیگیوں اور بنکوں کی شرائط سے استثناء دیا گیا ہے جو اس سے پہلے اشیاء کی برآمدگی کے حوالے سے نافذ العمل تھے۔ یہ فیصلہ علاقائی سطح پر تجارتی بہاؤ کو بہتر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت پاکستان نے پاکستان کی طرف سے برآمدی اشیاء کے ساتھ جانے والے بحری جہازوں کو بھی قواعد میں نرمی کی سہولت دی ہے۔ یہ بات وزارت تجارت نے ہفتہ کے روز بتائی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ برامدات میں یہ نرمی 24 مارچ سے 21 جون تک جاری رہے گی اور اس دوران معمول کے قواعد و قوانین پر عمل سے استنثناء حاصل رہے گا جو بنک گرانٹیز اور لیٹر آف کریڈٹ کے سلسلے میں ضروری ہوتے ہیں، اب نرم کر دیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں پاکستانی اشیاء کی برآمد جن میں چاول بھی شامل ہے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کی اجازت ہوگی۔ ان ریاستوں میں آذربائیجان بھی شامل ہے اور یہ روٹ ٹرانزٹ روٹ کہلائے گا۔
وفاقی وزیر تجارت نے اس رعایت کی خوشی سے اجازت دیتے ہوئے ایکسپورٹ پالیسی 2022 کے پیرا نمبر 3 میں استثناء کا اعلان کیا ہے۔ نوٹیفیکیشن 24 مارچ کو جاری کیا گیا۔
اس استثناء سے چاولوں کی برآمد، سمندری خوراک، آلو، گوشت، چنے، کنو، کیلے، ٹماٹر، فروزن چکن، ادویات اور خیمہ جات شامل ہوں گے۔ تاہم برآمد کنندگان کو اس سلسلے میں یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ طے شدہ مدت کے دوران ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے۔ وزارت تجارت نے حکومت کے اس اقدام کو تاریخی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے علاقائی سطح پر برآمد میں جنگ زدہ ملک کو فائدہ ہوگا۔
وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا اس نرمی کے نتیجے میں برآمدات کے اخراجات نمایاں طور پر کم ہوجائیں گے اور ملکی معیشت کو برآمدات تیز کرنے سے استحکام ملے گا۔
یاد رہے پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران پاکستانی برآمدات میں کمی ہوئی ہے اور یہ کمی 22 ارب ڈالر سے کم ہو کر 20.5 ارب ڈالر تک رہ گئی ہے۔
پچھلے مالی سال کے دوران ملک کو 26 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا تھا۔ اگرچہ برآمدات کی سطح 5 فیصد اضافے کے ساتھ 32 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم درآمدات 58.4 ارب ڈالر کی تھیں۔
نیا ٹرانزٹ روٹ
حکومت کا یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان نے ایران کے ذریعے ایک متبادل ٹرانزٹ روٹ دیا ہے جب افغانستان کے ساتھ کشیدہ صورتحال کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ روٹ بند ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے تاکہ دہشت گردی کے واقعات کو کنٹرول کیا جا سکے۔
اب اس نئے ٹرانزٹ روٹ کے ذریعے پاکستان وسط ایشیائی ریاست آذربائیجان کو بھی ایران کے راستے برآمدات کرسکے گا۔ ان میں ادویات بھی بطور خاص شامل ہوں گی۔
ملک کے برآمدی حلقوں نے حکومت کے اس فیصلے کی تعریف کی ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے علاقائی سطح پر گہرے اثرات ہوں گے۔ کیونکہ اس میں وہ ملک شامل ہیں جو مشرق وسطیٰ کے جاری جنگی منظر نامے کا حصہ ہیں۔
اس اقدام سے پاکستان کی خطے میں امن کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔ جیسا کہ پاکستان اس سے پہلے بھی یہ کوششیں کر رہا ہے۔