روس نے ایران کو جدید ڈرونز کی فراہمی کی رپورٹس مسترد کردیں

’ ماسکو تہران کو ان ڈرون ٹیکنالوجیز کے بہتر ویرژن واپس کر رہا ہے جو ایران نے یوکرین جنگ کے دوران روس کو فراہم کی تھیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور یورپی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ روس نے ایران کو ڈرون طیاروں کی ایک کھیپ بھیجنا شروع کر دی ہے۔ ان طیاروں میں اس ٹیکنالوجی کے تیار کردہ جدید ویرژن شامل ہیں جو تہران نے یوکرین پر حملے کے بعد ماسکو کو فراہم کی تھی۔

یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیل، بعض خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے خلاف ڈرونز کے ذریعے شدید حملے کر رہا ہے۔ یہ حملے ان امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں جن میں ایران کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

حکام کے مطابق روس نے یوکرین کی جنگ کے دوران ایرانی شاہد ڈرونز کے استعمال کے دوران ان میں بڑی تبدیلیاں اور بہتری پیدا کی ہے جن میں نیوی گیشن اور گائیڈنس کی صلاحیتوں کو بڑھانا شامل ہے۔ اسی وجہ سے ماسکو نے اس ماہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے انتہائی فعال مذاکرات کے بعد ان کے جدید ویرژن دوبارہ تہران کو برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک امریکی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ واشنگٹن کو یہ معلوم نہیں کہ یہ کھیپ صرف ایک بار کی فراہمی ہے یا یہ مسلسل سپلائی کے سلسلے کا حصہ ہے، جبکہ ان طیاروں کی تعداد یا ان کے فوجی اثرات بھی تاحال واضح نہیں ہیں۔ ایک یورپی عہدیدار نے اشارہ دیا کہ محدود تعداد میں ڈرونز کی فراہمی سے جنگ کا رخ فیصلہ کن طور پر نہیں بدلے گا۔

یورپی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کھیپ ایران کے راستے میں ہے تاہم اس کی نقل و حمل کا طریقہ کار اب بھی غیر یقینی ہے۔ ایک یورپی اہلکار نے بتایا کہ روسی ٹرکوں کے دو قافلے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لبادے میں آذربائیجان کے راستے ایران میں داخل ہوئے ہیں، جن میں ممکنہ طور پر یہ ڈرون طیارے ہو سکتے ہیں۔

باکو میں روسی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ تقریباً 150 ٹن غذائی اشیاء سے لدے سات ٹرک شمالی ایران میں داخل ہوئے ہیں، جبکہ روسی وزارت ہنگامی حالات کا کہنا ہے کہ 313 ٹن ادویات بھی ریلوے کے ذریعے آستارا کے علاقے میں منتقل کی گئی ہیں۔

برطانوی دفاعی تخمینوں کے مطابق روس نے مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑنے سے قبل ایران کو تربیت اور انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں، جن میں الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور مختلف اقسام کے ڈرونز کا تجربہ شامل ہے۔

دوسری جانب ایک یورپی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ ایران روس کے ساتھ عسکری معلومات کا تبادلہ کھلے دل سے کر رہا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے فوجی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تعاون ان سابقہ تناؤ کے باوجود جاری ہے جو سنہ 2025ء میں اسرائیل کے ساتھ تنازع کے دوران ماسکو کی جانب سے تہران کی حمایت نہ کرنے پر پیدا ہوا تھا۔

ماسکو اور تہران نے سنہ 2022ء میں ایرانی شاہد ڈرونز کی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا 1.7 بلین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا، جس کے بعد روس نے تاتارستان کے علاقے میں "الابوغا" فیکٹری میں اپنی پروڈکشن لائن قائم کی۔ روسی انجینئرز نے ان طیاروں میں نئی ٹیکنالوجی شامل کر کے انہیں مزید بہتر بنایا، جن میں انتہائی درست نیوی گیشن، الیکٹرانک جامنگ کے خلاف نظام، رفتار بڑھانے کے لیے جیٹ انجن اور مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹنگ پلیٹ فارمز شامل ہیں جو طیارے کو کنٹرول سگنل کے بغیر اڑنے، جاسوسی کیمروں اور جدید مواصلاتی رابطوں کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایسے نقلی ویرژن بھی تیار کیے گئے ہیں جن میں دھماکہ خیز مواد نہیں ہوتا لیکن انہیں فضائی دفاعی نظام کو الجھانے اور فرضی اہداف کے ذریعے اسے مصروف رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے ان جدید ویرژن کا حصول امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ان ڈرونز کو روکنا مزید مشکل بنا سکتا ہے، خاص طور پر جیٹ ڈرونز بہت زیادہ تیز رفتار ہیں جنہیں گرانے کے لیے مہنگے دفاعی گولہ بارود کی ضرورت ہوتی ہے جس کا ذخیرہ پہلے ہی محدود ہے۔

تاہم حکام نے ان سسٹمز کی فراہمی کے پیچھے مکمل روسی مقصد کی وضاحت نہیں کی، کیونکہ ایران کو بھیجے جانے والے ہر ہتھیار کا مطلب یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کے اپنے دستیاب ذخیرے میں کمی ہے۔ دوسری جانب کرملین نے ان رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے انہیں "فیک نیوز" قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں