روس کی برطانوی سفارت کار کو جاسوسی کے الزام میں ملک چھوڑنے کی ہدایت

روسی وزارت خارجہ کی برطانوی شہریوں کو ویزا درخواستوں میں درست معلومات فراہم کرنے کی تاکید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی میڈیا نے فیڈرل سکیورٹی سروس کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس نے ایک برطانوی سفارت کار کو جاسوسی کے شواہد ملنے کے بعد ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کے لیے ایک تازہ دھچکا ثابت ہوا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر لندن نے انٹیلی جنس سرگرمیوں میں ملوث برطانوی سفارت کار کی منظوری کی منسوخی کے معاملے کو مزید طول دیا تو ماسکو اس کا فوری اور بھرپور جواب دے گا۔

روسی وزارت خارجہ کے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے: "لندن کو متنبہ کر دیا گیا ہے کہ اگر اس معاملے کو بڑھایا گیا تو روسی فریق فوری طور پر ضروری جواب دے گا"۔

ویزا قوانین اور غلط معلومات پر انتباہ

روسی وزارت خارجہ نے برطانوی شہریوں، بالخصوص سفارت خانے کے عملے کو ویزا درخواستوں کے وقت درست معلومات فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔ ماسکو میں برطانوی سفارت خانے کے ایک اہلکار کی منظوری منسوخ کرنے کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے: "برطانیہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ بعض برطانوی سفارت کاروں کی جانب سے جان بوجھ کر اپنے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کے حقائق سامنے آ چکے ہیں جو ہمارے سخت ردعمل کی بنیاد بنے ہیں۔ لندن کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ برطانوی شہری اور خاص طور پر سفارت خانے کا عملہ ویزا درخواست دیتے وقت اپنے ماضی کے بارے میں قابل بھروسہ معلومات فراہم کرے"۔

یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے برطانیہ اور روس کے تعلقات سرد جنگ کے بعد اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ برطانیہ نے روس کے خلاف پابندیوں کے مختلف سلسلوں میں شمولیت اختیار کی ہے اور یوکرین کو اسلحہ بھی فراہم کیا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے گذشتہ ہفتے پہلی بار اس کی سرزمین پر برطانیہ کے تیار کردہ ’سٹورم شیڈو‘ کروز میزائل داغے تھے، جس کا ذکر صدر ولادیمیر پوتن نے بھی کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں