سورج غائب ہو جائے تو زمین کا کیا بنے گا؟ تاریکی اور شدید سردی کا منظر
سورج زمین کا ہمیشہ کا ساتھی رہا ہے، تقریباً 4اعشاریہ6 ارب سال سے۔ لیکن اگر سورج اچانک غائب ہو جائے تو ہماری ماں زمین کا کیا بنے گا؟زمین اور سورج کے بغیر مستقبل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جانیں کہ یہ دونوں کیسے وجود میں آئے۔
ایک بڑی گیس اور غبار کا باد ل
سورج کی ابتدا اُس وقت ہوئی، جب ایک بہت بڑا گیس اور غبار کا بادل خود پر ہی منہدم ہو گیا، یوں ہمارے شمسی نظام کا سب سے بڑا جرم وجود میں آیا۔
اس کے گرد زمین اور دیگر چٹانی سیارے بنے، جیسے عطارد، زہرہ اور مریخ، ساتھ ہی چاند اور اجرام فلکی جیسے شِہاب و سیارچے بھی بنے، جیسا کہ Live Science میں بتایا گیا ہے۔
زمین مکمل طور پر سورج پر منحصر ہے۔ اس کی کشش ثقل ہمارے سیارے کو مثالی مدار میں رکھتی ہے، جسے "گولڈی لاکس زون" کہا جاتا ہے، جہاں نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے اور نہ ہی مہلک سردی اور یوں پانی اپنی مائع حالت میں موجود رہ سکتا ہے۔
سورج حرارت اور روشنی کا بنیادی ماخذ ہے، یہ پانی کے چکر اور پودوں کی روشنی کے ذریعے خوراک تیار کرنے کے عمل (photosynthesis) کو سہارا دیتا ہے، جو زیادہ تر جانداروں کے لیے غذا فراہم کرتا ہے۔
اس کے علاوہ اس کی الٹراوایلیٹ شعاعیں وٹامن "ڈی" کی پیداوار کے لیے ضروری ہیں، جو ہڈیوں اور دانتوں کی صحت کے لیے اہم ہے۔
8 منٹ اور 20 سیکنڈ
اگر سورج اچانک غائب ہو جائے تو ہمیں فوراً اس کا احساس نہیں ہوگا، کیونکہ اس کی روشنی زمین تک پہنچنے میں تقریباً 8 منٹ اور 20 سیکنڈ لگتے ہیں۔
اس دوران سب کچھ معمول کے مطابق رہے گا، جیسا کہ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں اٹماسفیرک سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر تیموتھی کرونن نے بتایا ہے۔لیکن اس وقت کے گزرنے کے بعد، زمین پر مکمل اور اچانک اندھیرا چھا جائے گا اور دن اور رات کے فرق کا پتہ لگانا ناممکن ہو جائے گا۔
سورج کی روشنی منعکس کرنے والا چاند بھی غائب ہو جائے گا، حالانکہ دور کے ستارے اب بھی دکھائی دیں گے۔ اس کے علاوہ سورج کے بغیر سیاروں کی مداریں متاثر ہوں گی اور وہ خلا میں آزادانہ طور پر حرکت کرنے لگیں گے۔
حرارت میں زبردست کمی
لیکن انسانیت کے لیے سب سے بڑا چیلنج زمین پر ہی ہوگا، کیونکہ سورج کی روشنی اور حرارت کے غائب ہونے کی وجہ سے زندگی برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
وہ پودے جو روشنی کے ذریعے خوراک تیار کرتے ہیں (photosynthesis) فنا ہو جائیں گے اور کچھ پودے مختصر مدت کے لیے سست روی کی حالت میں داخل ہو سکتے ہیں، لیکن آخرکار وہ بھی غائب ہو جائیں گے۔
اس دوران فنگس (کھمبی نما جاندار) کچھ وقت تک موجود رہ سکتے ہیں کیونکہ ان کے لیے نامیاتی مواد دستیاب ہوگا، مگر شدید سردی کے باعث انہیں بھی نقصان ہوگا، جیسا کہ ورجینیا کے جورج میسن یونیورسٹی میں سیاروی اور فلکیاتی علوم کے پروفیسر مائیکل سامرز نے بتایا ہے۔
زمین کی حرارت حیرت انگیز حد تک تیزی سے کم ہوگی، تقریباً ہر 24 گھنٹے میں 20 ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی۔ چند دنوں میں زمین کا بیشتر حصہ برف سے ڈھک جائے گا، جھیلیں اور تالاب بتدریج جم جائیں گے، جبکہ سمندر دہائیوں تک مائع رہ سکتے ہیں کیونکہ زمین کے اندرونی حرارت اور فعال آتش فشاں انہیں گرم رکھیں گے۔
وقت کے ساتھ زمین کی حرارت پلوتو کے درجۂ حرارت کے قریب پہنچ جائے گی، مگر مکمل صفر (absolute zero) تک نہیں پہنچے گی، کیونکہ تقریباً 13اعشاریہ8 ارب سال قبل ہونے والے عظیم دھماکے (Big Bang) سے بچا ہوا شعاعی توانائی موجود رہے گی۔
اکثر انسانی تہذیبوں کا خاتمہ
ایسی صورت حال میں زیادہ تر انسانی تہذیبیں اور سطحی زندگی تقریباً ختم ہو جائیں گی۔ ممکن ہے کہ صرف وہ انسان زندہ رہ سکیں جو غاروں میں پناہ لیں، زمین کے اندرونی حرارت یا جوہری توانائی سے فائدہ اٹھائیں اور مصنوعی روشنی کے تحت پودے اگائیں۔
کچھ خوردبینی جاندار جیسے ''ٹارڈِگریڈز''(پانی کے بھالو) یا کچھ بیکٹیریا، سخت حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر وہ بیکٹیریا جو ''کیمیکل سنتھیسز'' (chemical synthesis) کے ذریعے زندہ رہتے ہیں، جیسا کہ وہ جو سمندری گہرائیوں میں حرارتی چشموں کے قریب موجود ہیں۔
انسانیت کے لیے خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ابھی کوئی وجہ نہیں کہ سورج اچانک غائب ہو جائے۔ سورج تقریباً پانچ ارب سال مزید حرارت اور روشنی فراہم کرتا رہے گا۔ لیکن جب اس کا ایندھن ختم ہو جائے گا، تو یہ ''سرخ دیو'' میں تبدیل ہو جائے گا، جو عطارد، زہرہ اور ممکنہ طور پر زمین کو نگل جائے گا۔