لبنان کی وزارتِ صحت نے بدھ کو کہا کہ بیروت کے جنوبی مضافات اور ایک قریبی قصبے پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے جبکہ اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے حزب اللہ کے سینئر ارکان کو نشانہ بنایا۔
وزارتِ صحت نے کہا کہ جنوبی بیروت کے علاقے جَناح پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔ ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ وہاں کھڑی چار گاڑیاں نشانہ بنیں۔
وزارتِ صحت نے ایک الگ بیان میں کہا کہ دارالحکومت کے بالکل جنوب میں خلدۃ میں ایک گاڑی پر ایک اور حملے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
اسرائیل کی فوج نے اہداف کا نام اور صحیح مقامات کی تفصیل بتائے بغیر دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "بیروت کے علاقے میں" دو الگ حملوں میں "حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر" اور گروپ کے ایک اور رکن کو ہلاک کر دیا ہے۔
حزب اللہ نے سرحد پار اور لبنان کے اندر اسرائیلی افواج کے خلاف درجنوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
فوج کی داخلی محاذ کمان کے مطابق نصف شب کے قریب شمالی اسرائیل کے علاقے الجلیل میں فضائی حملے کے سائرن بجے۔
اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ حزب اللہ نے 40 سے زیادہ راکٹوں کا ایک مسلسل حملہ کیا جس کے چند گھنٹے بعد یہ واقعہ ہوا۔
حزب اللہ نے یہ بھی کہا کہ بدھ کی صبح سرحد کے قریب اس کے مزاحمت کاروں کی اسرائیلی فوجیوں سے "شدید جھڑپیں" ہوئیں اور ایک دوسرے علاقے میں فوجیوں کے ایک گروپ پر راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا۔
اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں چار فوجیوں سمیت جنوبی لبنان میں اپنی صفوں میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے بعض حصوں پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو بقول حکام حزب اللہ کو سرحدی علاقوں سے دور کرنے کے لیے بفر زون ہو گا۔
وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے منگل کو کہا، "لبنان کی سرحد سے ملحقہ دیہات کے تمام مکانات مسمار کر دیے جائیں گے۔"
کاٹز کے لبنانی ہم منصب مشیل منسی نے "لبنانی سرزمین پر نئے قبضے" کے منصوبوں کی مذمت کی جبکہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اسرائیل کی تعیناتی کو "غیر قانونی دراندازی" قرار دیا۔