دشمن کے علاقے میں گرنے کے بعد پائلٹ کیسے بچ سکتا ہے؟ چھپنے اور پانی ڈھونڈنے کی حکمت عملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی افواج اپنےایک پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے وقت کے خلاف دوڑ رہی ہیں،جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا طیارہ گزشتہ جمعہ ایران کے اوپر مار گرایا گیا۔

امریکی افواج ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے پہلے اس تک پہنچنا چاہتی ہے،اس سلسلے میں ایک ریٹائرڈ امریکی پائلٹ نے خبر رساں ادارے ''فرانسیسی پریس '' کو ان اقدامات سے آگاہ کیا، جو پائلٹ کو دشمن کی سرزمین پر پیراشوٹ کے ذریعے اترنے کے بعد زندہ رہنے کے لیے اختیار کرنے چاہئیں۔

ریٹائرڈ جنرل ہیوسٹن کینٹ ویل جو اس وقت مچل انسٹی ٹیوٹ فار ایرو اسپیس اسٹڈیز میں کام کر رہے ہیں، نے کہا: ایسا لگتا ہے جیسے آپ کہہ رہے ہوں: یا اللہ! میں دو منٹ پہلے ایک لڑاکا طیارے میں 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر رہا تھا، ابھی ایک میزائل میرے سر سے صرف ساڑھے چار میٹر کے فاصلے پر پھٹا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پائلٹ کی جانب سے دشمن سے بچاؤ، مزاحمت اور فرار کی تربیت جسے مختصراً SERE کہا جاتا ہے،اس پر عمل درآمد پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگاتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

کینٹ ویل نے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا: بہترین انٹیلی جنس معلومات آپ کو زمین پر اترتے وقت ملتی ہیں، بتایا کہ آپ کے پاس اس وقت سب سے بہتر موقع ہوتا ہے یہ دیکھنے کا کہ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں اور کن جگہوں سے بچنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اپنے اردگرد نظر رکھیں، کیونکہ زمین پر اترنے کے بعد آپ دور تک نہیں دیکھ سکیں گے۔

کینٹ ویل کے کیریئر میں 400 گھنٹے کی جنگی پرواز شامل ہے، جن میں عراق اور افغانستان کے مشن بھی شامل ہیں، انہوں نے مشکل پیراشوٹ لینڈنگ کی طویل تربیت حاصل کی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پیراشوٹ ہونے کے باوجود زمین سے ٹکراؤ کے وقت پائلٹ کو پاؤں، ٹخنے یا ٹانگ میں چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا: ویتنام جنگ کے زندہ بچ جانے والوں کی کئی کہانیاں ہیں، جنہیں شدید چوٹیں آئیں،یہاں تک کہ متعدد فریکچرصرف طیارے سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زمین پر اترنے کے بعد پائلٹ کو اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہیے: کیا میں حرکت کر سکتا ہوں؟ کیا میں چلنے کے قابل ہوں؟اس کے بعد پائلٹ کو صورتحال کا جائزہ لے کر اپنی جگہ کا تعین کرنا چاہیے، یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ دشمن کی حدود میں ہے، کہاں چھپ سکتا ہے اور کس طرح رابطہ قائم کر سکتا ہے۔

کینٹ ویل نے زور دیا کہ زندہ بچ جانے والے پائلٹ کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت تک دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے بچنے کی کوشش کرے۔

انہوں نے کہا: اگر میں صحرائی علاقے میں ہوں تو میں پانی تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔اسی دوران جنگی تلاش و بچاؤ (CSAR) کی ٹیمیں متحرک ہو جاتی ہیں، جو انتہائی تربیت یافتہ فوجیوں اور پائلٹس پر مشتمل ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا: یہ بات ذہنی سکون دیتی ہے کہ وہ آپ کو بچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے، لیکن وہ خودکشی جیسا مشن نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ عملے کا رکن خود بھی اپنی محفوظ ریسکیو کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔ زمین پر میری اولین ترجیح چھپنا ہے، کیونکہ میں قید نہیں ہونا چاہتا۔ میں ایسی جگہ پہنچنا چاہتا ہوں جہاں سے مجھے نکالا جا سکے۔شہری علاقے میں یہ کسی عمارت کی چھت ہو سکتی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں کوئی کھلا میدان جہاں ہیلی کاپٹر اتر سکے۔

ریٹائرڈ پائلٹ نے بتایا کہ رات کے وقت نقل و حرکت بہتر رہتی ہے۔امریکی پائلٹ اپنے ساتھ ایک چھوٹا بیگ رکھتے ہیں جو ایجیکشن سیٹ یا فلائٹ سوٹ میں ہوتا ہے تاکہ ان کی مدد ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اس میں بنیادی خوراک، پانی اور بقا کے لیے ضروری سامان ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا: اس میں مواصلاتی آلات، ریڈیو اور دیگر چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں جو آپ کو جلد از جلد ریسکیو ہونے میں مدد دیتی ہیں۔

کینٹ ویل نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ایف-16 اڑاتے وقت اپنے ساتھ پستول بھی رکھتے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل طیارہ جمعہ کے روز جنوب مغربی ایران میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس کے ایک پائلٹ کو امریکی اسپیشل فورسز نے بچا لیا، جبکہ پچھلی نشست پر بیٹھے ویپن سسٹمز آپریٹر کی قسمت اب تک نامعلوم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں